Al-Risala · February 1995 · page 14

قرآن کہاں سے آگیا

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۱۴

قرآن کہاں سے آگیا

اتر پردیش کے ایک گاؤں کا واقعہ ہے۔ دو مسلمان میں ایک جائداد کا جھگڑا تھا۔ ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان سے کہا کہ اگر تم قرآن ہاتھ میں لے کر کہہ دو کہ یہ جائداد میری ہے، تو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں گا۔ مذکورہ مسلمان نے اس سے انکار کیا۔ اس نے کہا ـــــ اس میں قرآن کہاں سے آگیا۔

موجودہ زمانہ میں یہی بیشتر مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ قرآن کو مانتے ہیں۔ اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔ مگر صرف اس وقت تک جب کہ قرآن ان کے ذاتی معاملات سے تعرض نہ کرے ۔ جیسے ہی قرآن کی زد ان کے ذاتی معاملات پر پڑے وہ فوراً قرآن کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر ان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میرے ذاتی معاملات تو میری اپنی پسند ناپسند کے تابع ہیں۔ اس کا قرآن و حدیث سے کیا تعلق ۔ یہ غیر قرآنی مزاج صرف عوام میں نہیں بلکہ علماء اور اسلام پسند طبقہ میں بھی وہ یکساں طور سے پایا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی شخص سے ایک ایسے معاملہ میں بات کیجئے جس سے اس کا دنیوی انٹرسٹ وابستہ ہو ، خواہ یہ انٹرسٹ مالی ہو یا اور کسی قسم کا ہو، آپ کو فوراً محسوس ہو گا کہ وہ اپنے اس معاملہ میں قرآن وسنت کی بالا دستی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ حتی کہ جو لوگ اسلام پر تقریریں کرنے ہی کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں ، وہ بھی اپنے ذاتی معاملہ کو اس سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اہتمام کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام کے ساتھ گستاخی کرنے والے کے خلاف زمین شش شد و آسمان هفت شد" کا ہنگامہ کھڑا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر اپنی رائے کو قرآن و حدیث کے تابع کرنا انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کے معاملہ میں قرآن وسنت کے احکام کو منطبق کرنا ہو تو وہ کسی قیمت پر اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ قرآن کے مطابق کسی آدمی کے مومن ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہ باہمی نزاع میں اللہ اور رسول کے فیصلہ کے آگے سر جھکا دے (النساء (۶۵) مگر لوگوں نے بطور خود اس کا کچھ اور معیار مقرر کر لیا ہے۔ یہ بلا شبہ سرکشی ہے نہ کہ اسلام۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page