Al-Risala · December 1995 · page 32

I don’t believe in religion.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۲

پروفیسر رشید الدین ایک ذی علم اور تجربہ کار آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بہت سے قصے سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۴ کو کانپور میں علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ اس جلسہ کے صدر جن ستا کے ایڈیٹر منسٹر پر بھاشش جوشی تھے ۔ اور پروفیسر رشید الدین اس میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر ہے ۔ علم، عقل، عدل، رحیمیت (compassion) ۔ پر بھاشش جوشی جو پہلے سے پروفیسر رشید الدین کو جانتے تھے، انھوں نے آخر میں اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مجھے اگر پروفیسر رشید الدین جیسے ۱۰۱مسلمان مل جائیں تو میں اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔

پروفیسر رشید الدین نے الرسالہ مشن کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کا دل جیتا جائے ۔ آج ہمیں کنفرنٹیشن کی نہیں بلکہ پرسویشن (Persuasion) کی ضرورت ہے۔

۱۲ نومبر کی شام کو میں اپنے کمرہ کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر آیا۔ یہ دروازہ ایک پارک کی طرف کھلتا تھا۔ دور تک پھول اور درخت اور ہریالی کا منظر تھا۔ میں نے سوچا کہ پارک اس گیسٹ ہاؤس کی عمارت کی رونق ہے۔ عمارت کے ساتھ اگر یہ باغ نہ ہو تو گیسٹ ہاؤس بالکل سونا دکھائی دینے لگے۔

یہ سوچتے ہوئے قرآن کی آیت یاد آئی : ومساکن طیبۃ فی جنات عدن۔ ان الفاظ میں قرآن نے جنت کی منظر کشی کی ہے۔ یعنی جنت میں پاکیزہ مکانات ابدی باغوں میں ہوں گے۔ ایک عمدہ مکان کے بارہ میں انسان کا تصور یہی ہے کہ وہ باغ کے درمیان ہو۔ انسانی تخیل آج بھی اس سے آگے نہ جاسکا ۔ قرآن یا اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کی ہر بات اپنے آخری معیار پر ہے۔ کوئی فلسفی یا کوئی آرٹسٹ کسی بھی چیز میں قرآن کے معیار سے آگے کا معیار پیش کرنے پر قادر نہیں۔

۱۳ نومبر کی شام کو کھانے کا اجتماعی نظام جیوتی گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ مغرب کی نماز سے فراغت کے بعد پروفیسر رشید الدین، پروفیسر امریک سنگھ اور میں کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page