I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۳
تقریباً آدھ گھنٹہ کاراستہ تھا۔ راستہ میں دونوں صاحبان بات کرتے رہے۔ میں زیادہ تر ان کی باتیں سنتا رہا۔
پروفیسر امر یک سنگھ نے کہا کہ گری لال جین (سابق ایڈیٹر ٹائمز آف انڈیا) سے میری بہت باتیں ہوتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اسلام کی مخالفت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام صرف اپنے کو بر حق بتاتا ہے، باقی جتنے مذ ہب رہیں سب اس کے نزدیک کمتر یا غلط ہیں۔ پروفیسر امر یک سنگھ نے ان کو جواب دیا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ کتابوں میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اصل یہ ہے کہ تمام آدمی سماجی دباؤ (social compulsion) کے تحت کام کرتے ہیں۔ مسلمان اس عام اصول سے مستثنی نہیں۔ سماجی دباؤ مسلمانوں کو اپنے آپ معتدل بنا دیتا ہے۔
پروفیسر رشید الدین نے کہا کہ یہ صرف اسلام یا مسلمانوں کی بات نہیں۔ جب بھی آدمی کسی راستہ کو اختیار کرتا ہے تو اس کو یہی سمجھنا پڑتا ہے کہ یہی واحد راستہ ہے : It is the only right path. آدمی کو جب تک اپنے مذہب پر یقین نہ ہو وہ اس کو پوری طرح اختیار نہیں کر سکتا۔ اس لئے لوگوں کو اپنے اپنے یقین پر رہنے دیجئے ۔ البتہ ان کو یہ بتائیے کہ اپنے مذہب پر یقین رکھتے ہوئے تم دوسرے مذہب والوں کا احترام کرو۔
یہ باتیں ہو ہی تھیں کہ ہماری گاڑی جیوتی گیسٹ ہاؤس میں داخل ہوگئی۔ یہ شہری ماحول کے درمیان گو یا ایک نخلستان تھا۔ یہاں خوبصورت لان میں لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔ کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں۔ اس کے بعد لوگوں نے کھانا کھایا۔ یہاں تمام لوگ صرف انگریزی زبان استعمال کر رہے تھے۔ یہاں ہر چیز انگلش معیار پر نظر آئی۔
میں نے سوچا کہ ہندوستان دو ہندوستان ہے۔ ایک وہ ہندوستان جس میں اس ملک کے ۹۵ فیصد لوگ رہتے ہیں۔ دوسرا وہ جس میں صرف پانچ فیصد لوگ آباد ہیں۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ مگر آزادی کے بعد جو ہندوستان بنا وہ عملاً اس کے برعکس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ ہندوستان ہو یا اور کوئی ملک، محض سیاسی حکمرانوں کی تبدیلی سے سماجی حالات نہیں بدل سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues