I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
کریں گے، خاص طور پر پائلٹوں کے مسائل جو آئے دن اسٹرائک کرکے سارانظام درہم برہم کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں یونین کے پاس صنعتی تعلقات پر لکھی ہوئی بہترین کتاب کے ساتھ جاؤں گا۔ یہ بائبل ہے۔ اس کے مشہور دس احکام میں سے دو یہ ہیں کہ دوسروں کے ساتھ وہی کرو جو تم اپنے لئے چاہتے ہو، اور اپنے پڑوسی سے اسی طرح محبت کرو جیسی محبت تم اپنے لئے پسند کرتے ہو :
میں نے کہا کہ یہ دونوں حکم تمام مذہبوں میں پائے جاتے ہیں اور یہ بلاشبہ سماجی اخلاقیات کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ اخلاقی اصول لوگوں کی زندگیوں میں آجائے تو تمام سماجی جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں۔
میرا مقالہ اور میری یہ تقریر دونوں ہی سمینار کے منتظمین نے اپنی رپورٹ کے ساتھ شائع کر دی ہیں۔ ان کا پتہ یہ ہے :
مسٹر الکنندا پٹیل (Alaknanda Patel) مسلم صوفیوں سے متاثر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے فلسفہ کا خلاصہ ایک لفظ " اخلاق " میں بتایا تھا۔ اور راما کرشنا دیونے دھرم کا خلاصہ ایک لفظ میں مہربانی بتایا : نئی دہلی کی وینا بہن (Tel. 4620066) نے یونیفارم سول کوڈ کے بارہ میں کہا کہ مسلمانوں کے اوپر جبراً ایک سول کوڈ لاگو کرنا اس وقت الٹا نتیجہ پیدا کرے گا۔ ان کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ آزادانہ طور پر خواہ یونیفارم سول کوڈ کے تحت اپنے نکاح کو رجسٹر کروائیں یا مسلم پرسنل لا کے تحت :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues