I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۰
رکھیں :
Muslims should accept the Indian ethos and respect for the faith, beliefes, heritage and heroes of Hindus. Hindus must put the nation above caste, language, race, sect, etc. سمینار میں ایک صاحب کی تقریر مجھے پسند آئی ۔ وہ بڑودہ شہر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :
G.N. Devy, Department of English M.S. University, Baroda 390 002 انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ کانفلکٹ بھی پارٹ آف لائف ہے۔ اس دنیا میں کانفلکٹ فری سوسائٹی (Conflict-free society) ممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں کانفلکٹ کے خلاف شکایت کرنے کے بجائے کانفلکٹ کے ساتھ جینے کا گر سیکھنا چاہئے پروفیسر امریک سنگھ نے کہا کہ دو قومی نظریہ کا الزام مسٹر محمد علی جناح پر نہیں جاتا۔ کیونکہ سب سے پہلے لالہ لاجپت رائے نے ۱۹۱۶ میں یہ کہا تھا کہ ہندوستان میں دو الگ قومیں آباد ہیں۔ ایک ہندو ، اور دوسرے مسلمان ۔ تا ہم یہ بات نہایت عجیب ہے کہ کیوں مسٹر جناح نے اس کی تردید نہیں کی ۔ اور اس کے بجائے انھوں نے اسی کو اپنی تحریک کی بنیاد بنا لیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ جھگڑے کی جڑ تاریخی یادیں ہیں۔ مسلمان کے دماغ میں یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان کے اوپر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ اور ہندوؤں کے دماغ میں ہے کہ مسلمانوں نے یہاں آ کر ہمیں ایک ہزار سال تک غلام بنائے رکھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑے ہیں ان کو ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ سب کا ہیرو ایک ہو جائے۔ مسلمانوں کو ہندوؤں پر اسی طرح فخر ہونے لگے جس طرح خود ہندوؤں کو ہے۔ اس کے بغیر یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔
ایک سردار جی نے کہا کہ پارٹیشن نے مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہاں مسلمانوں کی پوزیشن ۲۵ فیصد تھی ۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد وہ کم ہو کر ۱۰ فیصد پر آ گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمانوں کو اس کا احساس ہو گا اور اس وقت یہ حال ہو گا کہ جس طرح روس میں لینن کا مجسمہ گرایا گیا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues