I don’t believe in religion.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱
اسی طرح مسٹر جناح بھی مسلمانوں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائیں گے۔
سمینار ۵ بجے شام کو ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ہم لوگ پر یمانند ساہتیہ سدن کے لئے روانہ ہوئے۔ میرے علاوہ مسٹر بندوق والا، مسٹر مدھو مہتا ، مسٹر ارونددیش پانڈے بھی ساتھ تھے۔ راستہ میں ملکی مسائل پر باتیں ہوتی رہیں۔
مسٹر ارونددیش پانڈے نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے پہلے جب جس کھنا نے مسٹر لال کرشن آڈوانی سے کہا تھا کہ " دیکھو آڈوانی، ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ میرے جیسے ہندو کو انڈیا میں رہتے ہوئے شرم آئے"۔ مسٹر پانڈے نے بتایا کہ بھاجپا کے ایک لیڈر سے ان کی ایک گھنٹہ تک بات ہوئی ۔ ان کی باتوں کا وہ جواب نہ دے سکے۔ آخر میں مسٹر اروند دیش پانڈے نے ان سے کہا : " آئندہ جب انڈیا کی ہسٹری میں آپ کا نام درج کیا جائے گا تو آپ کے خانہ میں صرف دوکارنامہ لکھا جائے گا ایک یہ کہ مہاتما گاندھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ دوسرے یہ کہ آپ نے تاریخی بابری مسجد کو ڈھا دیا "۔ پر یمانند ساہتیہ سدن کے ہال میں میری تقریر کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ وسیع ہال پورا کا پورا بھرا ہوا تھا۔ نشست کا انتظام فرش پر کیا گیا تھا۔ اس جلسہ کا اعلان میرے نام کے ساتھ مقامی گجراتی اخبارات میں کر دیا گیا تھا۔ کافی لوگ اس میں شریک ہوئے۔ شرکاء میں ہندوؤں کے علاوہ مسلمان بھی موجود تھے۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کو مثبت سوچنے والا (Positive thinker) بنایا جائے۔ یعنی وہ انسان جو خلاف مزاج باتوں پر نہ بھڑکے۔ جوناموافق چیزوں کے درمیان معتدل طور پر رہ سکے۔ حتیٰ کہ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر دے۔ تفصیلی تقریر میں مختلف مثالوں سے اس حقیقت کو واضح کیا۔ صدر جلسہ ایک مقامی ہندو تھے۔ انھوں نے آخر میں بولتے ہوئے میری تقریر پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب مولانا صاحب بول رہے تھے تو ایسا معلوم پڑتا تھا جیسے مہمان رشی بول رہا ہے۔
جلسہ کے بعد اسٹیج سے اترا تو مختلف لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ کچھ مسلم نوجوانوں نے آٹو گراف لیا۔ ادھیڑ عمر کے ایک مسلمان جو ٹوپی پہنے ہوئے تھے اور جن کے چہرے پر داڑھی بھی تھی،
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues