In search of Peace
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۵
روزانہ چلتی ہے۔
راستہ میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین سو آگت (نومبر ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس کے ہندی حصہ میں پہلا مضمون تھا مہان صوفی سنت ، حضرت نظام الدین اولیاء ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کی مرکزی حکومت میں جو شخص بھی پرائم منسٹر بنتا ہے ، وہ درگاہ نظام الدین جاکر وہاں چادر ضرور چڑھاتا ہے۔ کیوں کہ عام عقیدہ یہ ہے کہ حضرت نظام الدین کی مرضی کے بغیر کوئی شخص دہلی پر حکومت نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ سلطان جی کہے جاتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء ، ۱۲۳۸ء میں پیدا ہوئے اور ۱۳۲۵ء میں ان کا انتقال ہوا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے سب کو ہمیشہ مانو پریم کا سندیش دیا (صفحہ ۲۹)
انگریزی میں ایک مضمون مسٹر ہومی جے وکیل کے قلم سے تھا ، اس کی تصویریں مسٹر وی بالو نے فراہم کی تھیں۔ اس کا موضوع تھا تلاش امن :
In search of Peace
اس مضمون میں اقوام متحدہ کے ادارہ امن کے لٹریچر سے ایک جملہ نقل کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چوں کہ جنگیں لوگوں کے دماغ میں شروع ہوتی ہیں ، اس لئے انسانی دماغ ہی سے ہمیں امن قائم کرنے کی کوششوں کا آغاز کرنا چاہئے :
Since wars begin in the minds of men, it is there that we must begin to construct the defences of peace. (p. 12)
پر امن سماج بنانے کا ذریعہ پر امن انسان بنانا ہے۔ جب تک پر امن سوچ والے انسان وجود میں نہ آئیں پر امن سماج کا وجود بھی ممکن نہیں۔
۴ نومبر ۱۹۹۴ کی دوپہر کو جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ میں جہاں سے چلا تھا وہیں دوبارہ واپس آگیا۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ آدمی آخرت سے نکل کر دنیا میں آتا ہے اور دوبارہ پھر وہ آخرت کی طرف واپس چلا جاتا ہے۔ دنیا میں ہماری واپسی پر دیس سے گھر کی طرف ہوتی ہے ، آخرت میں ، ہماری واپسی عمل کی دنیا سے انجام کی دنیا کی طرف ہوگی۔ واپسی کے بعد بڑودہ سے چند خطوط ملے۔ مسز الکنندا پٹیل .Tel) جو سینار
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues