Al-Risala · December 1995 · page 44

I don’t believe in religion.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۴۴

صاحب ایک ساتھ روانہ ہوئے۔ ہماری گاڑی بڑودہ کی مختلف سڑکوں سے گزر رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کہیں امیری کے مناظر تھے اور کہیں غریبی کے مناظر۔ میں نے سوچا کہ آدمی کا حال بڑا عجیب ہے اگر وہ غریب ہو، تو پست ہمت ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ خوش حال ہو، تو گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ امیری میں معتدل رہتا ہے اور نہ غریبی میں۔

راستہ میں پروفیسر رشید الدین صاحب کی باتیں سنتا رہا۔ ان کی معلومات وسیع ہیں اور حافظہ بھی اچھا ہے۔ وہ چالیس سال کا تعلیمی تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ نہایت وضع دار ہیں۔ ہم لوگ گیسٹ ہاؤس سے نکلے تو انھوں نے وہاں کے آدمی کو حسب قاعدہ ٹپ دی۔ اسی طرح ایئر پورٹ پہنچے تو یہاں بھی وہ ڈرائیور کو ٹپ دینا نہیں بھولے۔

رشید الدین صاحب 1979 میں پاکستان گئے تھے۔ وہاں کے بارہ میں بہت سے لطیفے سناتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک شاعر ہیں۔ ان کا تخلص فارغ ہے۔ ان کا ایک شعر رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔ پاکستانی تجربہ کے بعد، ہی یہ شعر نکل سکتا ہے :

اب یوں لگتا ہے فارغ کہ عیاذ باللہ جیسے اسلام یزیدوں کے لئے آیا ہو انھوں نے دو شعر سنایا جو ان کے الفاظ میں گویا اس ملک میں اردو اور مسلمان دونوں کی کہانی کا خلاصہ ہے۔ 1905 میں داغ دہلوی نے فخر کے ساتھ کہا تھا:

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ ہندوستان میں دھوم ہماری زباں کی ہے آج کیا حال ہے، اس کا اظہار مجروح سلطان پوری کے ایک شعر سے ہوتا ہے۔ ان کی ایک نظم کا یہ شعر اردو زبان کی موجودہ حالت کی تصویر ہے :

نہ ہاں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروح ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے ایک اور شعر انھوں نے مشاہد صدیقی کا سنایا۔ وہ حیدر آبادی تھے اور جگر مراد آبادی کے شاگرد تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا :

مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انھیں شعور نظر نہ تھا کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے اس طرح بات کرتے ہوئے ہم لوگ ایئرپورٹ پہنچ گئے۔ بڑودہ سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ 41 کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ ایک ہی پرواز ہے جو دہلی ۔ احمد آباد ۔ بڑودہ - دہلی کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues

Printed page