In search of Peace
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۰۴
حیدر آباد میں تعلیم یافتہ افراد کا ایک فورم پرجنابھارتی ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد کا سفر کیا۔ وہاں ان کے دو خطاب ہوئے (۱) لونگ ودھ اسلام ان انڈیا۔ (۲) مسلم ایجنڈا۔ اس سلسلہ میں ورنگل، بیدر اور دون پرتی کا بھی سفر ہوا اور وہاں بھی عمومی خطابات ہوئے۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ یہ سفر یکم جولائی ۱۹۹۵ء کو شروع ہوا اور ۶ جولائی کو واپسی ہوئی۔ مسٹرانیل ساری اور مسٹر ایس این سنہانے ۷ جولائی ۱۹۹۵ء کو انگریزی ہفت روزہ ایشیا ویک کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے سیاسی فکر سے تھا۔
ارن کول پروڈکشن (نئی دہلی) کی ٹی وی ٹیم نے ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اغوا کرنے کا طریقہ اسلام میں جائز نہیں۔ حدیبیہ معاہدہ میں ایک دفعہ یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ لیکن اگر کوئی مشرک مدینہ کے مسلمانوں کو مل جائے تو وہ اس کو واپس کر دیں گے۔ اس دفعہ سے معلوم ہوا کہ فریق ثانی اگر مسلمان کو ہاسٹیج بنا رہا ہو تب بھی مسلمان کسی غیر مسلم کو ہاسٹیج نہیں بنائیں گے۔ انڈین ٹیلیویژن ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۱۳ جولائی ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کامن سول کوڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ کامن سول کوڈ کا نفاذ نہ ممکن ہے اور نہ مفید۔
تو بھارت ٹائمٹس کے نمائندہ مسٹر گلشن رائے کھتری نے ۲۹ جون ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر حکومت قائم کرنا اس طرح نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی نہ کسی طرح سیاسی اقتدار پر قبضہ کر لیں اور اس کے بعد ڈنڈے کے زور پر مذہبی قانون نافذ کرنا شروع کر دیں۔ ایسا کرنے سے مذہبی نظام نہیں آئے گا۔ بلکہ فساد اور تخریب کا نظام آئے گا۔ جو لوگ مذہبی نظام قائم کرنا چاہیں ان کے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1995 All issues