Al-Risala · February 1995 · page 25

مطلوب فطرت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۵

مطلوب فطرت

محمد یوسف صاحب ریاض میں رہتے ہیں۔ وہاں ان کا تعلق ایک بینک سے ہے۔ وہ اپنے خط مورخہ ۱۹ مارچ ۱۹۹۲ میں لکھتے ہیں:

”آپ کی کتاب اسلام دین فطرت پڑھی۔ صفحہ ۴۵-۴۶ پر آپ نے نماز سے متعلق جو بات لکھی ہے وہ بالکل سچ ہے۔ ۱۹۹۱ میں ایسا ہی ایک واقعہ عرب میں پیش آیا۔ ریاض کے انگریزی اخبار ”عرب نیوز“ میں اس کو میں نے پڑھا تھا، اس میں بتایا گیا تھا کہ ایک جرمن خاتون بطور نرس یہاں کے ایک اسپتال میں کام کرنے کے لئے آئی۔ یہاں رہتے ہوئے اس نے یہاں کے ماحول کو دیکھا جو اس کے ملک جرمنی کے ماحول سے مختلف تھا۔ وہ متاثر ہوئی اور پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے خاوند کو جرمنی میں لکھا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اگر تم بھی اسلام قبول کر لو تو ہم دونوں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ورنہ تم مجھے طلاق دیدو۔ جرمن خاوند نے لکھا کہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تم فوراً وہاں کا کام چھوڑ کر جرمنی واپس آ جاؤ۔ خاتون نے جواب میں لکھا کہ اب یہ ناممکن ہے۔ میرا اور تمہارا اب کوئی تعلق نہیں۔ آخر اس خاتون نے اپنے جرمن شوہر سے طلاق لے کر یہاں ایک مصری ڈاکٹر سے شادی کر لی۔ جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ تم نے اسلام کیوں قبول کیا تو اس نے کہا کہ مسلمانوں کو نماز پڑھتے دیکھ کر۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں کہ نماز کو دیکھ کر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز عبادت کا صحیح اور کامل فطری طریقہ ہے۔ پرستش کا جذبہ ہر آدمی کی فطرت میں پیشگی طور پر موجود ہوتا ہے۔ ہر آدمی عین اپنی فطرت کے تقاضے کے تحت چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرے۔ اس کے بعد جب وہ کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے اندر کا فطری احساس کہتا ہے کہ یہ تو عین وہی چیز ہے جس کو میں چاہتا تھا۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ شامل ہو کر نماز پڑھنے والا بن جائے نماز ہر انسان کا اپنا فطری مطلوب ہے۔ نماز اور انسان کے درمیان وہی نفسیاتی تعلق ہے جو پیاس اور پانی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page