Al-Risala · February 1995 · page 24

Your freedom ends where my nose begins.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۴

کے درمیان تنوع پایا جائے ۔ ایک ماں باپ سے پیدا ہوانے والے چار بھائی خاندان کے مشترک مفاد کے معاملے میں تو ایک مشترک طرزِ فکر کے حامل ہوتے ہیں ۔ مگر ذاتی دائرہ میں چاروں بھائیوں کا مزاج اور چاروں بھائیوں کی پسند الگ الگ بن جاتی ہے ۔

معلوم ہو کہ وہ چیز جس کو ہم انڈین نیشن کہتے ہیں ، اس کے دو دائرے ہیں ۔ ایک دائرہ میں یکسانیت مطلوب ہے اور دوسرے دائرہ میں تنوع ۔ یکسانیت والے دائرہ میں تفرق برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر تنوع والے دائرہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ یہاں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے ، اور وہ ہے ایک دوسرے کے درمیان فرق کو ٹالریٹ کرنا ۔ پہلے معاملہ میں اگر ” من تو شدم تو من شدی کا اصول کار فرما ہے تو دوسرے معاملے میں Let us agree to disagree کا اصول ۔

ہندوستانی قومیت کی کامیاب تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان دونوں حصوں کے فرق کو سمجھتے ہوئے ہر ایک کی صحیح رعایت کی جائے ۔ پہلے دائرہ میں علاحدگی پسندی اگر اتنی بڑی چیز ہے جس کو قومی غداری کہا جائے تو دوسرے دائرہ کے معاملہ میں برعکس طور پر Walt Whitman کا یہ قول صادق آتا ہے کہ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنے اندر سمو سکوں : I am large enough to contain all these contradictions.

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page