Al-Risala · February 1995 · page 27

مطلوب فطرت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۷

دہلی سے پیرس کے لئے روانگی ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۴۹ کے ذریعہ ہوئی۔ یہ جہاز فرینک فرٹ ہوتے ہوئے پیرس جا رہا ہے۔ قدیم زمانہ میں ۶۸۱۰ کلومیٹر کا سفر نو گھنٹے میں طے کرنا نا ممکن تھا۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے۔ عام طور پر اس کو ٹیکنیکل ترقی کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر بہت کم ایسے لوگ ہونگے جو یہ سوچیں کہ یہ دراصل ان امکانات کا کارنامہ ہے جو فطرت کے اندر پہلے سے موجود تھے۔ انسان نے صرف یہ کیا کہ خدا کی دی ہوئی عقل سے ان کو دریافت کرکے انہیں استعمال کیا۔ دہلی سے جہاز کی روانگی کا وقت نو بج کر ۳۰ منٹ تھا۔ مگر جب جہاز دہلی سے اڑا تو گھڑی میں دس بج کر ۳۰ منٹ ہو چکے تھے۔ یہ مجھے اس بات کی قیمت ادا کرنی پڑی کہ میں نے "دیش بھگتی‘‘ کی خاطر باہر کی کسی ایئر لائنز (مثلاً ایئر فرانس) سے سفر کرنے کے بجائے ایئر انڈیا کا انتخاب کیا۔ بیرونی ایئر کمپنیاں عام طور پر بالکل ٹھیک وقت پر سفر کرتی ہیں۔ لیکن ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنز دونوں کے لئے تاخیر ایک معمول کی بات ہو گئی ہے۔ پرواز شروع ہوئی تو ایئر ہاسٹس نے اعلان کیا ’’دیان کے لیٹ اڑانوں کے کارن اس دیری کے لئے ہم آپ سے چھما چاہتے ہیں۔ ‘‘ میرے نزدیک اس قسم کی خرابیاں نہرو دور کی دین ہیں۔ نہرو کے سوشلزم نے ملک کو صرف ناقص کارکردگی اور کرپشن کا تحفہ دیا۔ سوشلزم یا اسٹیٹ کنٹرول والے سماج کا لازمی نتیجہ ہے، ذاتی محرک اور مقابلہ کے ماحول کا ختم ہو جانا۔ یہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ اور فطرت کے خلاف کوئی اسکیم کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔ میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ نہرو کے نام نہاد سوشلزم نے پچاس سال میں ہندوستان کو اس سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ انگریزوں نے دو سو سال کی مدت میں اس ملک کو پہنچایا تھا۔ تاہم یہ ایک امید کی بات ہے کہ موجودہ حکومت لبرلائزیشن کی پالیسی اختیار کرکے اس برائی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

’’سر! آپ ہندی فلم دیکھیں گے یا انگلش فلم، کون سی فلم آپ کو دکھائیں۔ ‘‘ جہاز کے عملہ کے ایک صاحب نے پوچھا۔ میں نے کہا کہ نہیں، مجھے فلم نہیں دیکھنا ہے، میں تو یہ اخبارات پڑھوں گا۔ میری بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی، اس نے کم از کم تین بار مجھ سے یہی سوال کیا۔ آج کا انسان "منورنجن" کے لئے صرف ایک بات جانتا ہے اور وہ فلم ہے۔ اس کو علم نہیں کہ اس دنیا میں اس سے زیادہ بڑا ایک منورنجن ہے اور وہ علم ہے۔ علم کے اضافہ میں جو لذت ہے وہ کسی بھی دوسری چیز میں نہیں۔ اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page