Al-Risala · February 1995 · page 28

مطلوب فطرت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۸

علم جب معرفت کے درجہ کو پہنچ جائے تو اس کی یہ لذت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ دوران سفرا ئیر انڈیا کا فلائٹ میگزین نمسکار ( جنوری - فروری ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان تھا : وطن کی طرف واپسی (The home coming)۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی اکانومی کے برلائزیشن کی اسکیم اور ریڈ ٹیپ میں کمی اور پرمٹ راج کو ختم کرنے کی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ نان ریزیڈنٹ انڈین کی واپسی کے لیے گویا فلڈ گیٹ کھل گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ، بیرونی ملکوں میں رہائش پذیر ہندوستانیوں کی تعداد ۱۲ ملین ہے۔ یہ لوگ تقریباً ۳۵ بلین ڈالر کی قابل سرمایہ کاری (investible) دولت رکھتے ہیں۔ اب تک یہ لوگ اپنی دولت باہر لگانَا پسند کرتے تھے۔ مگر اب وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری سے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

پچھلی نصف صدی میں بے شمار بیرونی دولت جو ملک میں آسکتی تھی وہ باہر کی باہر رہ گئی۔ وہ ہندوستان کی خوش حالی میں اضافہ کا سبب نہ بن سکی۔ اس کی واحد وجہ ملکی صنعتوں کے لیے تحفظ (protection) کے نام پر بننے والے مصنوعی قوانین اور ضوابط تھے۔ ہندوستان کی جدید اقتصادی تاریخ کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اصلاح کے نام پر ہونے والا ایک عمل بھی کتنے بڑے فساد کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہی اصلاحی فساد مزید اضافہ کے ساتھ خود مسلم رہنماؤں نے بھی ساری مسلم دنیا میں برپا کر رکھا ہے۔

جہاز میں کئی اخبار پڑھے۔ ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس (۱۱ فروری ۱۹۹۳) بھی موجود تھا۔ کانپور کے فساد کی خبر کی سرخی یہ تھی : کانپور میں سیناتینات ، ۱۵ تھانہ چھیتروں میں کرفیو ۔ اس جملہ میں اردو کا تعینات ہندی میں جاکر تینات بن گیا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کے میل جول سے زبانیں کس طرح بدلتی رہتی ہیں۔

یہی تبدیلی قدیم زمانہ میں مذہب کی مقدس کتابوں میں بھی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہر مذہبی کتاب کے متن میں طرح طرح کے فرق واقع ہوگئے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات اس کا اصل ابتدائی مفہوم ہی خبط ہو کر رہ گیا ہے۔ مثال کے طور پر بائبل میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جن کے واقعی معنی معلوم نہیں۔ ان کا مفہوم صرف اٹکل سے قائم کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب: Historical Jesus

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page