فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۹
اس عمومی تاریخی ظہرہ میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ قرآن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت ہی سے اس کی کتابت اور حفظ دونوں کا اہتمام کیا گیا۔ اس طرح قرآن میں مذکورہ قسم کی تبدیلی نہ ہوسکی۔
ایک ائیر ہاسٹس نے اپنا نام مسز اشرفی بتایا اور کہا کہ وہ ایک مسلم پیر کی مرید ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی جو سروس ہے وہ آپ کے لئے بورنگ ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ ہمارے لئے تو یہ کام ایک ہابی بن چکا ہے۔ میں نے کہا کہ مگر میرا حال تو یہ ہے کہ میں فرسٹ کلاس کے سفر میں بھی سخت اکتاہٹ میں مبتلا ہو جاتا ہوں انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ایک جگہ بیٹھے یا لیٹے رہتے ہیں۔ ہم کو تو ہر وقت حرکت میں رہنا پڑتا ہے۔ ہر وقت ہمارے سامنے کوئی کام ہوتا ہے۔ ہم لوگ کسی بھی وقت اپنے کو غیر مصروف نہیں پاتے۔ یہ بات مجھے درست نظر آئی۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ہر وقت سرگرم رہنا چاہتا ہے۔ کسی آدمی کو آپ ایک کمرہ میں بند کر دیں تو خواہ اس کمرے میں عیش و عشرت کا تمام سامان موجود ہو، وہ بہت جلد گھبرا جائے گا۔ انسان حرکت و عمل کے ماحول میں زندہ رہتا ہے۔ اس کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کے سامنے ہر وقت کوئی چیلنج یا کوئی عملی تقاضا موجود رہے جس میں لگ کر وہ محسوس کرے کہ میں نے ایک کام کیا۔ کسی فرد یا کسی قوم کو متحرک کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ اس کو ایک پروگرام دے دیا جائے جس پر اس کو یقین ہو اور جس کے لئے وہ اپنی صلاحیت کو متحرک کر سکے۔
یہ ہوائی جہاز کا فرسٹ کلاس ہے۔ ہر قسم کے پر راحت سامان اس کے اندر افراط کے ساتھ موجود ہیں۔ تربیت یافتہ عورت اور مرد ہر وقت خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ آپ صرف ایک بٹن دبا دیں اور ایک منٹ کے اندر ایک مستعد ائیر ہاسٹس آکر آپ کی ضرورت پوری کر چکی ہوگی۔ ایک عام آدمی ایسے حالات میں ہو تو اس کے چہرے پر سکون اور مسرت کی چمک واضح طور پر دکھائی دے گی۔ گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: میں اس وقت ایک آسمانی محل میں ہوں۔ میرا معاملہ وہ ہے جس کو شاعر نے ان لفظوں میں نظم کیا تھا:
فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues