فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۵
کے معاملہ میں مسلمانوں کا نقطہ نظر شدید طور پر مغربی تہذیب کے خلاف ہے۔ میں نے یورپ اور امریکہ کے سفروں میں دیکھا کہ اکثر مسلمان باپ ٹی وی کو اپنے بچوں کے لئے سخت مضر سمجھتے ہیں۔ ایک باپ نے کہا کہ ٹی وی ہمارے بچوں کے لئے ایک شیطانی معلم ہے۔ اس کے باوجود تمام مسلمان باپ اپنے گھروں کو خوبصورت ٹی وی سیٹ سے سجائے ہوئے ہیں۔
اس فرق کا سبب کیا ہے۔ کیوں وہ اسکارف کے معاملہ میں شدید ہیں اور ٹی وی کے معاملہ میں شدید نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی غیر مسلم اسکول میں جب ایک مسلمان لڑکی کو اسکارف پہننے سے روکا جائے تو یہ مسلمانوں کے لئے اہانت کا کیس بن جاتا ہے۔ اور خود مسلمان اپنے گھروں میں اسکارف کی مخالف تہذیب کا نمائندہ (ٹی وی) کو لاکر رکھیں، یا خود اپنی لڑکیوں کو اسکارف کے بغیر بازار میں گھومنے کی اجازت دیں تو وہ اہانت کا معاملہ نہیں بنتا۔
یہی صورت ہندوستان میں بابری مسجد کے معاملے میں پیش آئی۔ اکثر مسلم ملکوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئی ہیں اور مسجد کی جگہ سڑک یا اور کوئی چیز بنا دی گئی ہے۔ مگر ان کے اوپر نہ ہمارے علماء نے کوئی بیان دیا۔ نہ انھوں نے ان مسلم ملکوں کا بائیکاٹ کیا اور نہ ان واقعات پر کوئی ایجی ٹیشن چلایا گیا۔ مگر بابری مسجد کا مسئلہ چوں کہ غیروں نے پیدا کیا اس لئے وہ مسلمانوں کے لئے اہانت کا کیس بن گیا اور تمام مسلمان اس پر بھڑک اٹھے۔
قومی اہانت کے واقعہ پر بھڑکنا اور اسلام کے تقاضوں کے مجروح ہونے پر نہ بھڑکنا، یہ خدا پرستی نہیں ہے بلکہ قوم پرستی ہے۔ اور قوم پرستی کا مذہب خدا کے یہاں مقبول نہیں خواہ اس کے اوپر اسلام کا لیبل لگا دیا گیا ہو۔
علمی اعتبار سے آج فرانس اور مسلم دنیا میں کوئی نسبت نہیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان فرانس صرف اس لئے جاتے ہیں کہ وہاں کمائیں یا اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ مگر آٹھ سو سال پہلے صورتحال اس سے بالکل مختلف تھی۔
اسٹین لی لین پول (Lane-Poole) نے اس زمانہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فرانس، جرمنی، انگلینڈ اور یورپ کے ہر حصہ سے طلبہ اسپین جاتے تھے تاکہ علم کے اس سر چشمہ سے سیراب ہوسکیں جو اس وقت صرف مسلم شہروں میں بہہ رہا تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues