Al-Risala · February 1995 · page 26

فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۲۶

فرانس کے شہر نموتہ (Namuta) میں ایک اسکول ہے جس کا نام ہے زیو برشا ت اسکول (Xavier Bichat High School) یہاں ۵ نومبر ۱۹۹۳ کو یہ واقعہ ہوا کہ مراکو کی دو لڑکیاں فوزیہ (۱۱) سال، اور فاطمہ (۱۳ سال) اسکول سے خارج کر دی گئیں۔ وہ سر پر اسکارف باندھ کر آتی تھیں۔ اسکول کے ذمہ داروں نے انھیں منع کیا، کیوں کہ یہ ان کے اسکول کے آداب کے خلاف تھا۔ لڑکیوں نے اپنے باپ میمون عقیل کی ہدایت پر یہ حکم ماننے سے انکار کیا۔ اس کے بعد انھیں اسکول سے خارج کر دیا گیا۔

تمام دنیا کے مسلم اخباروں میں اس پر احتجاجی رپورٹیں شائع ہوئیں ۔ اس کو یورپ کی اسلام دشمنی پر محمول کیا گیا۔ کہا گیا کہ یورپ مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لینا چاہتا ہے اور اسکارف کی مخالفت اس انتقامی عمل کا آغاز ہے۔ رباط کے ایک عربی ہفت روزہ الرایہ (۲۴ رمضان ۱۴۱۴ھ ، ۱۵ فروری ۱۹۹۳ء) میں میں نے استاذ ابر اہیم الغشبانی کا ایک مضمون اس کی بابت پڑھا اس کا عنوان تھا : اور با تخوض حربا ضد وجود الاسلام۔ یعنی یورپ نے اسلام کے وجود کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ لڑکیوں کے والد میمون عقیل نے کہا کہ ہم اسلامی لباس کیوں کر چھوڑ سکتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور جو اس پر عمل نہیں کرے گا خدا اس کو سخت عذاب دے گا۔ (العالم الاسلامی، مکہ، ۱۵ جنوری ۱۹۹۴ء)

ایک طرف فرانس بلکہ سارے یورپ کے خلاف یہ غوغا ہے۔ دوسری طرف مراکو میں دو ہفتہ تک رہا۔ وہاں میں نے اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات کو دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ہر جگہ مراکشی لڑکیاں عام طور پر کھلے سر کے ساتھ گھوم رہی ہیں۔ فرانس میں لڑکیوں کا سر کھلا ہونا اسلام کے لئے خطرہ تھا مگر اپنے وطن میں سر کھولنے کے باوجود اسلام پوری طرح محفوظ تھا۔ فرانس کا اقتدار ایک عرصہ تک افریقہ میں رہا ہے۔ مثلاً مالی میں ۷۵ سال تک فرانس کا اقتدار قائم تھا۔ سعودی عرب میں مالی کے سفیر ڈاکٹر محمود الزبیر کا ایک انٹرویو ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۹ شعبان ۱۴۱۴ھ) میں چھپا ہے۔ انٹرویو رنے پوچھا کہ مالی لمبی مدت تک فرانسیسی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page