فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۹
اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر چیز کا ہے، حتی کہ گھاس اور مکھی جیسی چیزوں کا بھی۔ ہر چیز بے شمار عناصر کا مجموعہ ہے۔ اس میں سے کچھ کو ہم اپنی زبان میں کسی حد تک بتاتے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ ہر چیز میں کچھ اور عناصر ہیں جن کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انٹرنیشنل ہیرالڈٹریبیون (۱۲-۱۳ فروری ۱۹۹۴) کا پیرس ایڈیشن دیکھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے فیصلہ کے تحت بوسنیا کی جنگ کو روکنے کے لئے فوجی اقدام کیا ہے۔ آج کے اخبار میں کئی خبریں اور تصویریں اس کے بارہ میں تھیں۔ ایک رپورٹ میں اس علاقہ کے لوگوں کے تاثرات نقل کئے گئے تھے۔ بوسنیا کے ایک ۵۸ سالہ مسلمان (Ferid Hodzic) نے کہا کہ پچھلے دو دن سے میں محسوس کر رہا ہوں جیسے کہ جنگ ختم ہو گئی اور سرایجی و میں امن واپس آرہا ہے :۔ The last two days, I have been feeling like the war is over and peace is returning to Sarajevo. خدا کرے کہ بوسنیا ہرزیگووینا میں جنگ کی تباہ کاری ختم ہو جائے اور وہاں دوبارہ امن کا دور آ جائے۔
پیرس سے کیسا بلانکا جاتے ہوئے میری سیٹ کے قریب ایک تندرست فرانسیسی بچہ تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ایسا انسان بھلا ارتقا کے بے شعور طبیعی قانون کے ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔ ارتقا تو ایک مفروضہ اندھا قانون ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور ذہین وجود ہے۔ سارے انسان مل کر بھی گھاس کی ایک پتی کی تخلیق نہیں کر سکتے۔ پھر اگر ایک معلوم وجود تخلیق کی قدرت نہیں رکھتا تو ایک نامعلوم وجود ذات اتنے عظیم اور اتنے بامعنی عالم کو کس طرح پیدا کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقا کا نظریہ بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں۔
پیرس سے کیسا بلانکا کا سفر ڈھائی گھنٹہ کا تھا۔ اس دوران جہاز نے ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کیا۔ میں کل ایشیا سے روانہ ہوا تھا۔ پھر میں یورپ پہنچا۔ اور اب میں افریقہ کی زمین پر پہنچ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ مجموعی مدت پرواز کے لحاظ سے اس سفر میں ساڑھے بارہ گھنٹے صرف ہوئے۔ کیسا بلانکا میں وزارت الاوقاف والشئون الاسلامیہ کے نمائندہ کے طور پر ایک صاحب موجود تھے۔ ائیر پورٹ سے ان کے ساتھ رباط کے لئے روانہ ہوا۔ تقریباً ایک سو کلومیٹر کا راستہ شروع سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues