فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۳۸
انگریزی کا اخبار پڑھنے لگا۔ ۵ مئی ۱۸۲۱ کو اس کی حالت زیادہ خراب ہوئی۔ آخر وقت میں وہ کوئی مربوط کلام بولنے کے قابل نہ تھا۔ اس کی زبان سے حسب ذیل الفاظ غیر مربوط طور پر سنے گئے۔ ۔ میرے خدا۔۔۔ فرانسیسی قوم۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔ فوج کا سردار:
My God... The French nation.. my son... head of the army. شام کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی عمر بمشکل ۵۲ سال تھی۔ اس کے جنازہ میں صرف چند آدمی تھے۔ سینٹ ہیلینا کے ایک گوشہ میں اس کو دفن کر دیا گیا۔ اس کی قبر پر جو کتبہ لگایا گیا، اس پر اس کے نام کے بغیر صرف یہ دو لفظ لکھے ہوئے ہیں: یہاں مدفون ہے (Here lies) موت کا قانون اسی طرح ہر آدمی کی نفی کر رہا ہے۔ وہ ہر نامور کو بے نام بنا رہا ہے۔ وہ ہر جتھے والے کو بے جتھا کر رہا ہے اور ہر ملک والے کو بے ملک۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا اعلان ہے جو ہزاروں سال سے اس زمین پر کیا جا رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس کو سنے۔ کوئی نہیں جو اپنے مستقبل کو اپنے حال میں دیکھ لے۔
۱۲ فروری کی رات ہوٹل کے کمرہ میں گزری۔ سو کر اٹھا تو حوائج سے فارغ ہو کر وضو کیا۔ پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو بے اختیار یہ الفاظ زبان پر آ گئے: خدایا، دو رکعت نماز قبول فرمائیے فرانس کی سرزمین پر جہاں بارہ سو سال پہلے اسلام کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی روک دی گئی۔
ہوٹل کی طرف سے ہر پندرہ منٹ پر ایک کوچ ایئر پورٹ کی طرف جاتی ہے۔ اس سے روانہ ہو کر اور لی ایئر پورٹ پہنچا۔ یہاں سے ایئر فرانس کی فلائٹ ۸۸۷ کے ذریعہ کیسابلانکا کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں فلائٹ میگزین ایئر فرانس دیکھا۔ یہ فرانسیسی اور انگریزی دو زبانوں میں تھا۔ ایک مضمون یورپ کے بارہ میں تھا۔ اس میں آغاز کے وقت سے بتایا گیا تھا کہ جب زمین خشکی اور تری میں تقسیم ہوئی، اس وقت یورپ کا جغرافی نقشہ کیا تھا۔ پھر تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ نیچر نے یہاں کیا کیا وسائل جمع کئے ۔ ان وسائل کی فہرست دیتے ہوئے آخر میں کہا گیا تھا کہ ان کے علاوہ وہ ایک اور چیز بھی جس کو الفاظ میں بتایا نہیں جاسکتا: ...and another substance that language cannot describe.
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues