Al-Risala · February 1995 · page 41

فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۱

آباد ہو گئے۔ آج یورپ میں مسلمانوں کی جو تعداد پائی جاتی ہے اور وہاں اسلام کو زندہ کئے ہوئے ہے وہ زیادہ تر وہی ہے جو نو آبادیاتی دور میں وہاں جاکر آباد ہوئی تھی۔

۱۳ فروری کو ہوٹل سے نکلا کہ کسی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کروں۔ ڈرائیور السید محمد السد والی جو ایک گاڑی کے ساتھ مستقل میرے لئے مخصوص کئے گئے تھے، انہوں نے بہت چاہا کہ میں گاڑی پر چلوں۔ مگر میں نے عذر کر دیا اور ایک عرب نوجوان کے ساتھ پیدل چل کر مسجد حنصالی (جامع الحنصالی) پہنچا۔ وہاں جماعت تیار تھی۔ مجھے مسجد کا ماحول طبعی طور پر بہت پسند ہے۔ چنانچہ نماز سے فراغت کے بعد میں مسجد میں بیٹھ گیا۔ میں خاموش دیر تک بیٹھا رہا، یہاں تک کہ تمام نمازی مسجد سے چلے گئے۔ آخر میں مسجد کے موذن صاحب میرے پاس آئے اور کہا: نريد ان نسد أبواب المسجد، بارك اللہ فيكم (ہم مسجد کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں، اللہ آپ پر برکت نازل فرمائے) چنانچہ میں فوراً اٹھ کر مسجد کے باہر آگیا۔

یہی اکثر عرب ملکوں کا حال ہے۔ وہاں نماز کے بعد مسجد کے دروازہ پر تالا لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلی نماز کے وقت یہ تالا کھلتا ہے۔ صرف اس لئے کہ دوبارہ نماز کے بعد اسے بند کر دیا جائے ۔ ان ملکوں میں ایسا حکومت کے احکام کے تحت کیا جاتا ہے۔ اگر ہندوستان کی حکومت یہاں کی مسجدوں کے بارہ میں ایسا حکم جاری کر دے تو فوراً اس کو مداخلت فی الدین قرار دیکر اس کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی جائیگی۔ ممکن ہے کہ کچھ مقدس لوگ اپنے حجروں سے نکل کر اس کے خلاف دھرنا دینے کے لئے دہلی پہنچ جائیں۔ مگر یہی مقدس حضرات عرب ملکوں میں نہایت اطمینان کے ساتھ اس کو برداشت کئے ہوئے ہیں۔ ہمارے نااہل رہنماؤں کی یہی دو عملی موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

مسجد کے راستہ میں مغرب کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام عبدالمجید الکامل بتایا۔ ان سے میں نے کہا کہ میں یہاں دروس حسنیہ میں شرکت کے لئے آیا ہوں۔ انھوں نے کہا: المكتبة الاسلامية مليئة بالكتب ولكن الاعمال مفقودة ، نقرء ولا نعمل، نخطط ولا نطبق (اسلامی کتب خانہ کتابوں سے بھرا ہوا ہے۔ مگر اعمال غائب ہیں۔ ہم پڑھتے ہیں مگر ہم عمل نہیں کرتے، ہم نقشہ بناتے ہیں مگر ان کو نافذ نہیں کرتے)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues

Printed page