فرحت در راحت و عشرت، ہمہ فرماں بردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۵، صفحہ ۴۲
اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ کہنے والے صرف کہتے ہیں اسی لئے سننے والے لوگ بھی صرف سن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے تو کامل اخلاص کے ساتھ دعوت دی ۔ اس کے باوجود ان کے معاصرین ان کی بات ماننے پر راضی نہیں ہوئے ۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ صورت داعی کے غیر مخلص ہونے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ مخاطبین کی عدم قبولیت کی بنا پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مادی چیزوں کی طرف رغبت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کو مادی چیزوں کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔
مسجد سے واپس ہو کر ہوٹل پہنچا تو یہاں ڈاکٹر محمد الکبیر علوی میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ وزارت الاوقاف والشئون الاسلاميۃ میں مدیر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت عرصہ ہوا میں نے آپ کی کتاب الاسلام يتحدی پڑھی تھی۔ اس کے بعد کوئی اور کتاب مجھ کو نہیں ملی ۔ وہ میرے ساتھ میرے کمرہ میں آئے تو یہاں میں نے ان کو الاسلام يتحدی سمیت کئی اور عربی کتابیں دیں۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ انھوں نے تجویز کیا کہ ان کتابوں کا ایک سیٹ جلالۃ الملک اور وزیر اوقاف کو ضرور دیں ۔ وہ بہت خوش ہوں گے ۔
ایک بار میں رباط جدید کے علاقہ میں نکلا۔ یہاں مکانوں کے سامنے نارنگی (برتقال) کے بڑے بڑے درخت تھے ، وہ لال رنگ کی نارنگیوں سے لدے ہوئے تھے۔ میرے ایک عرب ساتھی نے بتایا کہ یہ لوگ ان درختوں کو اپنے گھر کے سامنے صرف خوبصورتی کے لئے لگاتے ہیں ، وہ ان کے پھلوں کو استعمال نہیں کرتے ، نہ کوئی اور ان کو توڑتا۔
یہ میرے لئے بڑے تعجب کی بات تھی ۔ دہلی میں اگر کوئی اپنے گھر کے سامنے اس طرح پھل دار درخت لگائے تو ایک بھی پھل درخت پر باقی نہیں رہے گا ، خواہ وہ نئی دہلی میں ہو یا پرانی دہلی میں۔ مراکش (مراکو ) ایک سیاحتی ملک ہے۔ اس بنا پر یہاں مغربی آزادی کے آثار کافی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہاں کے لوگوں میں دینی تعلق بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مراکشی عالم کا قصہ قابل ذکر ہے جو اس طرح بیان کیا جاتا ہے :
جدہ میں شیخ محمد نصيف کے گھر پر ایک مراکشی عالم ایک بے داڑھی والے مصری سے الجھ گئے۔ مصری عالم سے انھوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں ۔ مصری عالم نے جواب دیا : من احسن
‹ Previous page Next page › Contents of February 1995 All issues