لیڈری نے تباہ کیا
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳
ہمیشہ ملاپ سے ہوتی ہے نہ کہ ٹکراؤ سے۔
۷ مسٹر وی کے شرما اور ان کی ٹیم ۳۰ ستمبر ۱۹۹۵ء کو مرکز میں آئی۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق سورج گرہن کے مسئلے سے تھا جو ۲۴ اکتوبر کو پڑنے والا ہے۔ انھیں حدیث رسول کی روشنی میں اس کی حقیقت بتائی گئی۔ ۸ بھارتیہ ودیا بھون اور حکومت مہاراشٹر کے تعاون سے ۲ اکتوبر ۱۹۹۵ء کوبمبئی میں مہاتما گاندھی کی ۱۲۵ ویں جینتی بڑے پیمانہ پر منائی گئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور انگریزی میں ایک پیپر پیش کیا۔ اس کا عنوان تھا : گاندھی اینڈ نان وائلنٹ ایکٹوزم۔
۹ سنڈے آبزرور کے نمائندہ مسٹر ریش نوٹیال نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کا ٹیلیفون پر انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق سورج گرہن سے تھا جو ۲۴ اکتوبر کو پڑنے والا تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ پیغمبر اسلام نے گرہن کو ”خدا کی نشانی“ بتایا ہے۔ اس اعتبار سے اسلام پہلا دین ہے جس نے اس معاملہ میں انسان کو توہماتی عقائد سے باہر نکالا۔ ۱۰ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اینگلو عربک نرسری اینڈ پرائمری اسکول (دہلی) میں پانچواں انٹرا اسکول کمپٹیشن ہوا۔ موضوع سیرۃ النبیؐ تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے اس میں شرکت کی اور اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر تقریر کی۔ ۱۱ ۲۴ - ۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو فلارنس میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے یورپ کا ایک سفر کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر ملاقاتوں اور خطابات کا پروگرام رہا۔ اس کی تفصیل انشا ءاللہ سفرنامہ کے ذیل میں رسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۱۲ آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۸ ستمبر ۱۹۹۵ء کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : استقلال کی اہمیت۔ اس میں بتایا گیا کہ کامیابی ہمیشہ اس طرح ملتی ہے کہ آدمی پست ہمت نہ ہو اور مسلسل اپنا عمل جاری رکھے۔
۱۳ انٹرنیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ۴ نومبر ۱۹۹۵ء کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سمپوزیم
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues