Message of Sufis for peaceful co-existence.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۹
ہوا۔ اس کا عنوان تھا :
Message of Sufis for peaceful co-existence.
اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی ۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ تصوف آدمی کے اندر روحانی بلندی پیدا کرتا ہے ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ منفی احساسات سے بلند ہو جاتا ہے ۔ وہ لوگوں کے درمیان مثبت اخلاقیات کے ساتھ رہنے لگتا ہے ۔
۱۴۔ مسٹر مسٹر جمشید عادل نے ۵ نومبر ۱۹۹۵ کو روزنامہ عوام (دہلی) کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا ۔ انٹرویو کا تعلق اس سوال سے تھا کہ آنے والے الیکشن میں مسلمانوں کی انتخابی پالیسی کیا ہونا چاہئے ۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی واحد ملکی پالیسی نہیں ہونا چاہئے ۔ بلکہ انھیں اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے مقامی پالیسی بنانا چاہئے ۔ دوسری بات یہ کہ کسی ایک سیٹ پر کوئی مسلم نمائندے ہرگز کھڑے نہیں کرنا چاہئے ۔ ۱۵ اکھل بھارتیہ ہندی اردو پتری کا سمنوے سمیتی کی طرف سے ، ۷ نومبر ۱۹۹۵ کو غالب اکیڈمی (دہلی) میں ایک سیمینار ہوا ۔ اس کا موضوع تھا : مسلمانوں کے پچھڑے پن کا ذمہ دار کون ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں چیف گیسٹ کے طور پر شریک ہوئے اور مذکورہ موضوع پر خطاب کیا ۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے تھا کہ مسلمانوں کا پچھڑا پن اب پرانی بات ہو چکی ہے ۔ مسلمان اب جاگ چکا ہے اور وہ ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے ۔
۱۶ مزکبچنانے ۹ نومبر ۱۹۹۵ کو دینک ہندوستان (ہندی روزنامہ ، دہلی) کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا ۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر کشمیر کے مسئلہ سے تھا ۔ ایک سوال یہ تھا کہ کشمیر کو اٹانومی دینے سے کیا ایسا نہیں ہوگا کہ ملک کی دوسری ریاستیں بھی اس طرح اٹانومی مانگنے لگیں ۔ جواب دیا گیا کہ یہ اٹانومی عین وہی ہے جو دستور ہند کی دفعہ ۳۷۰ نے کشمیر کو دستوری طور پر دے رکھی ہے ۔ کشمیر کو اٹانومی دینا دستور کی تعمیل ہے ۔ جب کہ دوسری ریاستیں اگر اس کی مانگ کریں تو وہ ان کے لئے ایک ایسی چیز کا مطالبہ کرنا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1996 All issues