Al-Risala · January 1996 · page 9

دار الحرب یا دار الإعداد

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۹

رہی۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص اجتہاد کر کے اس معاملہ میں نیا فتوی دے تو وہ دور سابق کے حنفی فقیہ قاضی خاں پر تنقید کے ہم معنی ہوگا۔ سابق فقیہ کی رائے کو رد کیے بغیر اس مسئلہ میں نیا فتوی نہیں دیا جا سکتا۔

یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر بعد کے دور میں لوگ معاملات میں مجتہد انہ رائے دینے سے گھبرانے لگے۔ ایسی ہررائے دور سابق کے کسی عالم کی رائے سے ٹکراتی تھی، اور چونکہ دور سابق کے علماء کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا گیا تھا اس لیے قولاً یا عملاً اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ تاکہ نہ اجتہاد کرنا ہو اور نہ ماضی کے علماء پر تنقید کی نوبت آئے۔

دار الحرب یا دار الإعداد

ہندوستان میں جب انگریزوں کا نفوذ بڑھ گیا تو شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ۱۸۰۶ء میں یہ فتوی دیا کہ ہندوستان دار الحرب ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں اسلام خطرہ میں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا پیشہ علی فرض ہو چکا ہے کہ وہ انگریزوں سے لڑ کر انہیں نکالیں اور ملک کو ان کے فساد سے پاک کریں۔

جس وقت یہ انتہائی فتوی دیا گیا اس وقت مسلم معاشرہ مکمل طور پر شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکا تھا۔ چنانچہ اس فتوے کے خلاف کوئی کھلی تنقید سامنے نہیں آئی۔ حتی کہ کسی نے یہ کہنے کی بھی جرات نہیں کی کہ اتنا بڑا اعلان شخصی طور پر نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے علماء کا ایک نمائندہ اجتماع ہونا چاہیے۔ یہ فتوی جاری رہا۔ یہاں تک کہ ۱۸۳۱ء میں سید احمد بریلوی نے اپنے ساتھیوں کو لے کر عملی جہاد کیا۔ جس میں تمام کے تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس وقت مسلمانوں کے درمیان شخصیت پرستی اپنی آخری حد پر تھی۔ لوگ ’’بڑوں‘‘ کے خلاف بولنا تو درکنار سوچنا بھی نہیں جانتے تھے۔ اس وقت صرف ایک عالم میر محبوب علی دہلوی (۱۲۸۰۔ ۱۲۰۰ھ) نکلے جنہوں نے سید صاحب سے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ صرف شوریٰ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر شخصیت پرستی کی فضا کی بنا پر ان کی بات بے وزن ہو کر رہ گئی۔

اس کے بعد ۱۸۵۷ء میں جب علماء دیو بند نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس وقت بھی ایک عالم شیخ محمد صاحب نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو نا جائز بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page