خاتونِ جنت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴
فطرت کا نظام
قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو جوڑے جوڑے کی صورت میں بنایا ہے ومن کل شیئ خلقنا زوجین لعلکم تذکرون) الذاریات ۴۹ اسی اصول فطرت کے مطابق انسان کو بھی دو حصوں کی صورت میں تخلیق کیا گیا ہے ، اس کا ایک حصہ مرد ہے اور اس کا دوسرا حصہ عورت۔ یہ خود خالق فطرت کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ ہر مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبے کو تسلیم کرے۔ اس کو رد کر کے زندگی کا کوئی اور نقشہ بنانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس فطری منصوبے کو ماننے ہی کا نام کامیابی ہے اور اس کو نہ ماننے کا نام ناکامی۔ زوجین کی اس تقسیم کا تقاضا ہے کہ اس کا ہر فریق اپنی حیثیت کو اور اپنے کار منصبی کو جانے۔ مرد کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حقوق اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اسی طرح عورت کو یہ جاننا ہے کہ اس کے حدود کار کیا ہیں۔ زندگی کے نظام میں خالق فطرت نے اس کو کیا درجہ عطا فرمایا ہے۔ ایک لفظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ مرد باہر کا منتظم کار ہے اور عورت گھر کی سردار ہے۔ اصولی تقسیم کے مطابق ، مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ باہر کے معاملات کو سنبھالے ، اور عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر کے امور کو سنوارے اور ان کو درست کرے۔
تاہم اس تقسیم کار کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی نزاکتوں کو سمجھیں ، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کامل تعاون کریں۔
مثلاً مرد جو ماہانہ رقم کماتا ہے ، عورت اگر گھر کے اخراجات کا بجٹ اس سے زیادہ بنائے تو گھر کے نظام کا خوش اسلوبی کے ساتھ چلنا ناممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح مرد اپنے جن رشتہ داروں کو عزیز رکھتا ہے ، عورت ان کے ساتھ رفاقت قائم کرلے۔ مرد جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہتا ہے ، عورت ان کو اپنا دشمن سمجھلے۔ مرد سماج کے اندر جن تعلقات کو نبھانا چاہتا ہے ، عورت ان کو توڑنے کے درپے ہو جائے ۔ مرد وسیع تر مفاد کی خاطر جن لوگوں کو دوست رکھنا چاہتا ہے ، عورت ان سے قطع تعلق کی وکيل بن جائے۔
اس قسم کی تمام باتیں فطرت کے نظام میں خلل ڈالنے کے ہم معنی ہیں۔ جب بھی کوئی عورت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues