Al-Risala · March 1996 · page 5

خاتونِ جنت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۵

ایسا کرے گی تو وہ صرف ایک مرد ہے، عدم موافقت کرنے والی نہیں ہوگی بلکہ وہ خود نظام فطرت سے عدم موافقت کی مجرم قرار پائے گی۔

عورت پر لازم ہے کہ وہ صرف اپنے جذبات کو رہنما نہ بنائے بلکہ خالق فطرت کے منصوبہ پر نظر رکھے ۔ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ وہ انسانیت کے وجود کا نصف ہے نہ کہ کل ۔ اس کو اپنے جذبات کے ساتھ نظام فطرت کو بھی دیکھنا سے ، اور جہاں اس کے ذاتی احساسات اور فطرت میں ٹکراؤ ہووہاں اپنے احساسات کو دبانا ہے اور فطرت کے نظام کو خوش دلی کے ساتھ اختیار کر لینا ہے ۔

کائنات کا نظام اسی موافقت باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ کائنات کا ہر جزو پورے جذبہ اطاعت کے ساتھ دوسرے اجزاء کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اپنا وظیفہ ادا کر رہا ہے۔ یہی معاملہ گھر کے نظام میں بھی مطلوب ہے ۔ یہاں بھی عورت کو گھر کے مجموعی نظام سے ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنانا ہے ، اسی ہم آہنگی میں اس کے لیے ہر قسم کی سعادت اور ترقی کا راز چھپا ہوا ہے ۔ گھر کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے عورت کو اپنے ساتھ دوسروں کے جذبات کی رعایت کرنا ہے۔ اس کو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہونا ہے۔ اس کو اپنے خونی رشتوں کے احترام کے ساتھ اپنے غیر خونی رشتوں کا بھی پورا لحاظ رکھنا ہے ۔ اور یہ سب کچھ یہ سمجھ کر کرنا ہے کہ وہ کسی مرد یا کسی عورت کے سامنے نہیں جھک رہی ہے بلکہ خالق فطرت کے آگے جھک رہی ہے ، کیوں کہ خالق فطرت کی مرضی یہی ہے۔

زوجین کے اصول کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ مرد کے ساتھ عورت ہے اور عورت کے ساتھ مرد ۔ مگر وسیع تر معنی میں وہ پوری زندگی کو سموئے ہوئے ہے۔ وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مرد اور عورت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ زندگی عالمی انسانی اشتراک کا ایک نظام ہے۔ کوئی مرد یا کوئی عورت اس عمومی زنجیر کی صرف ایک کڑی ہے۔ ایک کڑی کے ٹوٹنے سے پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے ہر کڑی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سالمیت کو آخری حد تک باقی رکھے تاکہ فطرت کا قائم کردہ نظام حیات شکست و ریخت کا شکار نہ ہونے پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page