تقسیم کار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۷
ایسا مشیر ہو جو خود مسئلے سے متعلق نہ ہو تاکہ اس کی بابت وہ غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر سکے۔ حضرت خدیجہ کا مذکورہ قول اسی کی مثال ہے۔
اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے ، اس تقسیم سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے ۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں ۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے ۔ اور اپنے بے لاگ مشورہ سے اس کی مدد کر سکے۔ اس تقسیم کار کے نتیجہ میں عورت اور مرد دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔
۲- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاملہ بظاہر جب ہر کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں ۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو ، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈالو تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا ۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انھوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔
ام سلمہؓ نے کہا ۔ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سر منڈالیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کر سر منڈایا ۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں ۔ کیوں کہ انھوں نے محسوس کر لیا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی طرح ام سلمہؓ کو اس نازک موقع پر جو قیمتی بات سوجھی وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں ۔ اور اس بنا پر وہ اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں ۔ بصورت دیگر ان کے لیے ایسا کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues