تقسیم کار
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۶
تقسیم کار
ابن ماجہ کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی صالح بیوی سے بہتر نہیں (لیس من متاع الدنيا شیئ افضل من المرأة الصالحۃ) عورت کی اس خصوصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ صالح عورت اپنی مخصوص حیثیت کی بنا پر مرد کی بہترین ساتھی اور بہترین مشیر ہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کے دو واقعے نقل کیے جاتے ہیں۔
۱۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی مکہ کے قریب غارِ حرا میں اتری۔ یہ آپ کے لیے ایک غیر متوقع تجربہ تھا۔ آپ غار سے نکل کر اپنے گھر میں واپس آئے تو روایات کے مطابق آپ کانپ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ نے آپ کو کمبل اڑھادیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غار حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے اس وقت یہ الفاظ کہے :
كلا والله ما يخزيك الله ابدا ، انك ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا، لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، المعدوم وتُقرى الضيف وتعين کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، گمنام لوگوں کو کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور قدرتی آفتوں کے شکار لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دینے کے لیے جو کلمات کہے وہ بلاشبہ اپنے موقع کے لحاظ سے بہترین کلمات تھے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ حضرت خدیجہ کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ اس نازک موقع پر ایسے پر اعتماد الفاظ کہہ سکیں ۔ اس کی خاص وجہ آپ کا مذکورہ طوفان خیز تجربہ سے الگ رہنا ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں بعض اوقات وہ شخص غیر متاثر رائے قائم نہیں کر پاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھر اہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues