بہترین خزانہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۹
اطاعتہ واذا غاب عنہا حفظتہ فی نفسہا ومالہ) تفسیر ابن کثیر ۳۵۱/۲ اس حدیث میں عورت کو کسی مرد کے لیے سب سے اچھا خزانہ کہا گیا ہے ۔ اور یہ بات صدفی صد درست ہے۔ سونا اور چاندی یا مال صرف مادی ضرورت پورا کرتے ہیں۔ مگر ایک صالح خاتون گھر کو اور خاندان کو خوشی اور سکون اور محبت کا گہوارہ بناتی ہے۔ ایک صالح خاتون اپنے میٹھے بول سے گھر میں مٹھاس بکھیرتی ہے ۔ وہ اپنے اچھے اخلاق سے پورے ماحول کو انسانیت کا ماحول بناتی ہے۔ اس کا شریفانہ برتاؤ ہر ایک کو شرافت کی تربیت دینے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی پیدائشی نرمی اس کو نرم گفتار اور نرم کردار بناتی ہے، اور پھر گھر کی پوری فضا اسی رنگ میں رنگ جاتی ہے۔
عورت اپنی فطری صلاحیت اور اپنے فطری حالات کے اعتبار سے گھر کی انچارج ہے۔ گھر کے نظام میں اس کو مرکزی شخصیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے گھر کے بننے یا بگڑنے میں اس کا رول بے حد اہم ہے۔ ایک عورت کے بننے سے گھر بنتا ہے اور ایک عورت کے بگڑنے سے گھر بگڑجاتا ہے۔ اسی لیے عورت کو بہترین خزانہ کہا گیا ہے۔
عورت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ گھر کو مسرتوں کا باغ بنائے۔ اس کے شوہر کو اور گھر کے دوسرے افراد کو اس سے خوشی کا تحفہ مل رہا ہو۔ ہر ایک کے لیے اس کا وجود نفع بخشی اور فیض رسانی کا ذریعہ بن گیا ہو۔ شوہر کو اور گھر کے افراد کو یہ یقین ہو کہ خواہ وہ موجود ہوں یا غیر موجود ہوں ہمیشہ گھر کے اندر ان کا ذکر خیر خواہی کے ساتھ کیا جائے گا۔ ہمیشہ ان کو وہ سلوک ملے گا جو ان کی دنیا و آخرت کے لیے سب سے بہتر ہو۔
عورت گھر کا خزانہ ہے، بلکہ سب سے اچھا خزانہ ۔ عورت گھر کے باغ کا پھول ہے، بلکہ سب سے اچھا پھول۔ عورت گھر کی دنیا کی روشنی ہے، بلکہ سب سے اچھی روشنی ۔ مگر کوئی عورت اپنا یہ فطری کردار اسی وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ وہ باشعور ہو، جب کہ وہ اپنے احساسات کے ساتھ دوسروں کے احساسات کو بھی جانے ۔ جب کہ اس کے اندر یہ عزم ہو کہ وہ بہر حال اس انسانی کردار کو ادا کرے گی جو خالق نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، خواہ اس کے لیے اسے صبر و برداشت کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues