Al-Risala · March 1996 · page 10

خیر کثیر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰

خیر کثیر

قرآن کی سورہ نمبر۴ میں ایک مقام پر مردوں کو اس پر تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ عورت کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم و زیادتی کریں۔ اس سلسلہ میں ضروری احکام دینے کے بعد ایک اصولی اور جامع تعلیم دی گئی ہے یہ ہے :

وعاشروهن بالمعروف فان اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو ۔ اگر وہ تم کو كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شيئاً ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو ويجعل الله فيه خيراً كثيراً ۔ مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو ۔

(

اس آیت کا ابتدائی خطاب مردوں سے ہے۔ مگر وسیع تر انطباق کے اعتبار سے اس کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ اس میں دونوں ہی کے لیے یکساں رہنمائی موجود ہے۔ نکاح کے بعد خوش اسلوبی کے ساتھ نباہ کرنا جس طرح مردوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح وہ عورتوں کے لیے بھی ضروری ہے۔

مرد اگر محسوس کرے کہ اس کی ہونے والی بیوی میں کوئی جسمانی یا مزاجی کمزوری ہے تو اس کی بنا پر اسے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی اپنی دوسری خصوصیات کو بروئے کار لائے اور اس طرح گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ شوہر کو چاہیے کہ وہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھلا کر باہمی تعلق کو نبھائے۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔ عورت کے ساتھ بھی یہ صورت پیش آسکتی ہے کہ نکاح کے بعد اس کو احساس ہو کہ اس کے شوہر میں فلاں کمزوری ہے ۔ وہ سمجھے کہ میری قسمت خراب ہو گئی۔ مگر یہ صحیح نہیں ۔ اس کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی عورت ایسا کامل مرد پالے جس میں کے نقطہ نظر سے کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔ اس لیے عورت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نباہ کے اصول کو اختیار کرے ۔ جب وہ ایسا کرے گی تو وہ پائے گی کہ اس کے شوہر میں اگر ایک اعتبار سے کمی تھی تو دوسرے اعتبار سے اس کے اندر ایسی خوبیاں تھیں جن کے ہوتے ہوئے کمی کی کوئی اہمیت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page