اخلاق نسواں
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲
اخلاق نسواں
اخلاق اس اجتماعی سلوک کا نام ہے جو دوسروں سے معاملات اور تعلقات کے دوران کوئی مرد یا عورت انجام دیتا ہے۔ اسلام کا حکم ہے کہ ایسے ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاقی سلوک کیا جائے۔ یہ حکم عورت سے بھی اتنا ہی متعلق ہے جتنا کہ وہ مرد سے متعلق ہے۔ آپ کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ جب آپ اپنی زبان کھولیں تو جھوٹ کے لیے نہ کھولیں بلکہ سچ کے لیے کھولیں۔ ہمیشہ انصاف کی بات بولیں کسی کے خلاف الزام تراشی نہ کریں۔ بلکہ وہ بات کہیں جس میں دوسروں کے لیے خیر خواہی پائی جاتی ہو۔ آپ کا بولنا سچائی کے اظہار کے لیے ہو نہ کہ سچائی کو چھپانے کے لیے۔ جب کوئی حق آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو فوراً اس کا اعتراف کر لیں، آپ کی زبان سے کبھی پست بات نہ نکلے بلکہ جب بھی نکلے تو اعلیٰ انسانیت کی بات نکلے۔ آپ کا کلام تواضع، شرافت، تشکر گزاری، خیر پسندی اور اعتراف حق کے احساسات سے بھرا ہوا ہو۔ قرآن میں ہے کہ جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشر طیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اس کو جلائیں گے اچھا جلانا (من عمل صالحاً من ذكر أو أنثى وهو مومن فلنحيينه حياة طيبة النحل ۹۷ اس سے معلوم ہوا کہ صالح اعمال یا اچھے اخلاق کا تعلق صرف دوسروں سے نہیں ہے، جو لوگ ایسا کریں خود ان کی ذات کو اس کا یقینی فائدہ سب سے پہلے پہنچتا ہے جب آپ سچ بولیں تو اس سے آپ کو ایک خاص قسم کا روحانی سکون ملتا ہے۔ آپ کے اندر ایک بے تضاد شخصیت پرورش پانے لگتی ہے۔ جب خاندان کے ایک فرد سے آپ کو تکلیف پہنچے اور آپ اللہ کی خاطر اس کو بھلا دیں اور اس کے حق میں نیک دعا کریں تو آپ کے اندر انسانی خیر خواہی کا ایک چشمہ ابل پڑتا ہے جس کی ٹھنڈک آپ کے دل و دماغ تک پہنچتی ہے۔ اگر آپ کے لڑکے اور کسی دوسرے لڑکے کے درمیان تکرار ہوتی ہے، اس وقت آپ کا رویہ بیٹے کی طرف داری کا نہیں ہوتا بلکہ حق کی طرف داری کا ہوتا ہے تو ایسی روش سے آپ کو ایک ایسا ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے جو بھاری قیمت دے کر بھی خریدا نہیں جا سکتا۔
او پر کی آیت میں جس چیز کو حیات طیبہ (اچھی زندگی) کہا گیا ہے۔ وہی دنیا میں ضمیر کے اطمینان
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues