خیر کثیر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
ایسا کر نا کسی عورت یا کسی مرد سے موافقت کرنا نہیں ہے بلکہ وہ خود فطرت کے نظام سے موافقت کرنا ہے۔ اور جب معاملہ کسی عورت یا کسی مرد کا نہ ہو بلکہ فطرت کا ہو تو آدمی کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرے کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو ظہور میں آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں اس صبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنتوں میں داخلہ کا پروانہ حاصل کریں گے۔
مذکورہ اصول اس سورہ میں اگرچہ شوہر اور بیوی کے تعلق کے بارہ میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی موجود ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم دیتے ہوئے اس کے درمیان ایسی کلی ہدایت دے دی جاتی ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہو ۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا بالکل ضروری ہے۔ کوئی عورت یا مرد دوسروں سے الگ تھلگ زندگی نہیں گزار سکتے۔ اب چونکہ لوگوں کی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ ہر ایک کی طبیعت الگ الگ ہے اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے تو ان کے درمیان لازماً اختلاف اور شکایت والی باتیں پیدا ہوں گی ، ایسی حالت میں زندگی گزارنے کی قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے ۔ اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک کمی یا خرابی دوسرے کے سامنے آتی ہے۔ وہ فوراً اس سے دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے ۔ حالانکہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں ایک یا ایک سے زیادہ موافق پہلو موجود ہے ۔ مثلاً کسی عورت یا مرد میں اگر ظاہری کشش کم ہو تو اس کے اندر علی صلاحیت زیادہ ہوگی۔ اگر اس کے مزاج میں کوئی پہلو ناپسندیدہ ہو تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر ذہنی اعتبار سے اعلیٰ صلاحیت موجود ہوں ۔ اگر کوئی شخص ابتدائی مرحلہ میں کم پیسہ والا ہے تو اس کے اندر یہ استعداد ہو سکتی ہے کہ وہ محنت کرکے آئندہ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کرلے ۔
یہ فطرت کا نظام ہے ، اور فطرت کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues