روزمرہ کی زندگی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
روزمرہ کی زندگی
عورت کی زندگی صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کیسی ہونی چاہیے ۔ اس کا نقشہ شریعت میں مکمل طور پر دیا گیا ہے ۔ اس کا ایک خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے ۔ سب سے پہلا کام صبح کو سویرے اٹھنا ہے۔ جو خواتین صبح کو سویرے نہیں اٹھتیں وہ ہر دن کم از کم اپنا بہترین دو گھنٹہ ضائع کرتی ہیں۔ یہ ضائع شدہ وقت ایک دن میں صرف دو گھنٹہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسی طرح ۱۰ سال ہوتا رہے تو ضائع شدہ گھنٹوں کی مقدار سات ہزار گھنٹوں سے بھی زیادہ ہو جائے گی ۔ یہ خاندان کے صرف ایک ممبر کے ضائع شدہ گھنٹے ہیں۔ اسی طرح تمام افراد خاندان کے ضائع شدہ گھنٹوں کا شمار کیا جائے تو وہ کتنا زیادہ ہو جائے گا ۔
گھر کی خاتون جب سویرے اٹھیں تو دوسرے لوگ بھی سویرے اٹھیں گے ۔ پھر سب لوگ وضو کر کے فجر کی نماز ادا کریں گے ۔ اس طرح سویرے اٹھنا ایک طرف جسم کو اور دوسری طرف روح کو پاک کرنے کا ذریعہ بن جائے گا ۔ اسی طرح صبح کو سویرے اٹھنے کے نتیجہ میں دن بھر کے سارے پروگرام اپنے وقت پر انجام پائیں گے ، کیوں کہ جب آغاز درست ہو تو انجام بھی یقیناً درست رہتا ہے۔ صبح کو سویرے اٹھنے کی صورت میں دن بھر کے تمام پروگرام ٹھیک وقت پر انجام پائیں گے ۔ بچے تیار ہو کر وقت پر اسکول پہنچیں گے ۔ مرد تیار ہو کر وقت پر اپنے معاشی کام میں لگ جائے گا ۔ صبح سویرے گھر کی صفائی ہو جائے گی ۔ باورچی خانہ سے لے کر مارکیٹ تک ہر چیز کا نظام ٹھیک طور پر انجام پائے گا ۔ گھر کے پورے ماحول میں چستی ، باقاعدگی اور ذمہ داری کی فضا دکھائی دے گی ۔ پانچ وقت کی نماز جو ہر مومن اور مومنہ پر فرض ہے ، وہ صحیح وقت پر انجام دی جاتی رہے گی ۔ مزید آپ کو جاننا چاہیے کہ گھر کا انتظام اور نماز ، یہ دونوں الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ نہایت شدت کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں ۔
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اقيم الصلاة لذكري (طہ (۱۴) ، یعنی میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ پانچ وقت کی نماز در اصل ہر وقت کی نماز کی یاد دہانی ہے۔ یہ ہر وقت کی نماز کیا ہے ۔ وہ ذکر ہے ، یعنی اللہ کی یاد ۔ آپ کو یہ کہنا ہے کہ دن بھر کی تمام سرگرمیوں میں اللہ کو یاد کرتے رہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues