Al-Risala · March 1996 · page 15

روزمرہ کی زندگی

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۵

صبح کو آپ سوکر اٹھیں تو اس احساس کے ساتھ اٹھیں کہ نیند کیسی عجیب نعمت ہے۔ اس نے کل دن بھر کی میری تھکن دور کر دی۔ اس نے نیا دن شروع کرنے کے لیے مجھے دوبارہ تازہ دم کر دیا۔ یہ احساس آپ کی زبان سے شکر کے کلمات کی صورت میں نکل پڑے۔

اسی طرح دن بھر آپ جو کام کریں وہ سب آپ کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ مثلاً آپ اپنے بچہ کو اسکول جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں، اس وقت بچے کو دیکھ کر اگر آپ یہ کہہ اٹھیں کہ ایک انسانی بچہ کیسا عجیب معجزہ ہے، کیسا عجیب رحمت اور عظمت والا ہے وہ خدا جس نے انسانی بچہ جیسی عجیب چیز کی تخلیق کی۔ آپ کا بچہ اگر آپ کے اندر اس قسم کے تصورات جگانے کا ذریعہ بن جائے تو یہ سونے اور چاندی کے تمام ڈھیر سے زیادہ قیمتی ہے۔

آپ باورچی خانہ میں روٹی اور سالن پکارہی ہیں۔ آپ کو یاد آیا کہ یہ گیہوں، یہ چاول، یہ سبزی قدرت کے کیسے عجیب نمونے ہیں۔ خدا نے کروڑوں سال کے عمل کے دوران زمین کی اوپری تہہ کو زرخیز بنایا۔ اس نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں کو ملا کر حیرت انگیز طور پر پانی جیسی نعمت پیدا کی۔ اس طرح کے بے شمار اسباب کو وجود دینے کے بعد یہ ممکن ہوا کہ زمین میں کسی چیز کا بیج ڈالا جائے اور وہ پودے اور درخت کی صورت اختیار کرکے انسان کے لیے غذا کی فراہمی کا ذریعہ بن جائے۔ جب آپ اس طرح سوچیں گی تو آپ کا باورچی خانہ اور پورا گھر آپ کے لیے عبادت خانہ بن جائے گا۔ آپ کی نماز صرف پانچ وقت کی نماز نہیں ہوگی بلکہ وہ ذکر کی صورت میں سارے دن اور ساری رات جاری رہے گی۔

اس طرح دن گزارتے ہوئے ظہر کا وقت آتا ہے اور گھر کے تمام افراد نماز ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھتی ہیں۔ پھر رات کا کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ اس نے کائناتی انتظام کے تحت آپ کے لیے پانی اور کھانے کا انتظام کیا۔ عشاء کی نماز اور گھر کے ضروری کاموں کی تکمیل کے بعد وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ آپ سو جائیں۔ اب آپ معوذتین (قرآن کی آخری دو سورتیں) پڑھ کر اپنے بستر پر سو جائیے۔ جب آپ نے سارا دن پاک خیالات میں گزارا ہے تو اب آپ کو نہایت سکون کی نیند آئے گی۔ رات گزار کر صبح کو اٹھنا آپ کے لیے ایسا بن جائے گا جیسے دوبارہ نئی اور تر و تازہ زندگی حاصل کر لینا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page