حسن معاشرت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۷
دوسروں کو برے نام سے یاد کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے اس جذبہ کی تسکین حاصل کریں کہ وہ دوسروں سے بڑے ہیں۔
مگر اچھا اور برا، یا بڑا اور چھوٹا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو کوئی عورت یا مرد بطور خود مقرر کرلے۔ اچھا دراصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو، اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔
اگر کسی عورت یا کسی مرد کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس کے بعد اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسروں کا مذاق اڑانا، دوسروں کو طعنہ دینا، دوسروں پر عیب لگانا، دوسروں کو برے لقب سے یاد کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں ان کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گی۔ کیوں کہ وہ جانیں گے کہ لوگوں کے درجہ اور مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔ ایک عورت یا مرد کو کسی کے خلاف بدگمانی ہو جائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارہ میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ اس کی خوبیوں سے زیادہ اس کے نقائص تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے، یہ طریقہ انتہائی حد تک ایمان اور تقویٰ کے خلاف ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر معاشرتی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک اس معاملہ میں چوکنا رہے، وہ کسی بھی حال میں بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ آپ کو کسی کے بارہ میں الٹی خبر ملے تو اس کی تحقیق کیجئے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہو جائے تو اس سے مل کر اس کے بارہ میں اس سے گفتگو کیجئے۔ یہ سخت غیر اسلامی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی دینے کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی کسی عورت یا مرد سے اس قسم کی ایک غلطی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو وہ اپنی غلطی پر ڈھیٹ نہ ہوں گے۔ ان کا خوفِ خدا ان کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہ کردے گا۔ پھر وہ اپنی غلط روش کو چھوڑ دیں گے اور اللہ سے معافی کے طالب بن جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues