Al-Risala · March 1996 · page 18

مومن کا گھر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۸

مومن کا گھر

قرآن کی سورہ نمبر ۳۳ میں ازواج مطہرات (پیغمبر کی بیویوں) کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اور تم لوگ اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور سابقہ جاہلیت کا سا انداز اختیار نہ کرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کو یاد رکھو۔ بے شک اللہ باریک بیں ہے، خبر رکھنے والا ہے (الاحزاب ۳۳-۳۴) ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ ازواج رسول کو اپنے گھروں میں کس طرح رہنا چاہیے۔ انھیں جاہلی نمائش کا طریقہ چھوڑ کر متانت کے ساتھ گھر میں قیام کرنا چاہیے۔ ان کے گھر کو ذکر و نماز اور زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی کا مرکز ہونا چاہیے۔ معاملات زندگی میں ان کی روش خدا و رسول کی اطاعت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ان کے گھر میں قرآن کی تعلیمات کا چرچا ہونا چاہیے ۔ ان کے گھر میں حکمت اور معرفت کی باتوں کا ماحول دکھائی دینا چاہیے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی جس طرح تمام مسلمانوں کی زندگی کے لیے نمونہ تھی، اسی طرح آپ کا گھر بھی تمام گھروں کے لیے نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قیامت تک تمام مسلم مردوں اور تمام مسلم عورتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھروں کو اسی خاص نمونہ پر ڈھالیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں قائم فرمایا ہے۔

۱۔ مسلم خواتین کو اپنے گھروں کو اپنے عمل کا مرکز بنانا چاہیے۔ گھر گویا سماجی زندگی کی ابتدائی اکائی ہے، اور عورت کا کام یہ ہے کہ وہ اس اکائی کو درست کرے۔ کیوں کہ مختلف اکائیوں کا درست ہونا آخر کار پورے سماج کا درست ہونا ہے۔

۲۔ مسلم خاتون کے گھر کے ماحول کو سادہ اور بے تکلف ہونا چاہیے نہ کہ زرق برق اور چمک دمک والا۔ زرق برق گھر میں مادی فضا ہوتی ہے اور سادہ گھر میں روحانی فضا۔ زرق برق گھر دنیا کی یاد دلاتا ہے اور سادہ گھر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ زرق برق گھر میں مادی ذہن پرورش پاتا ہے اور سادہ گھر میں دعوتی اور مقصدی ذہن۔ زرق برق گھر میں ادنیٰ شخصیت کی نشو و نما ہوتی ہے اور سادہ گھر میں اعلیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page