Al-Risala · March 1996 · page 19

مومن کا گھر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹

شخصیت پر وان چڑھتی ہے۔

۳۔ مومن مومن خاتون کا گھر عبادت کا گھر ہوتا ہے — پانچ وقت کی نماز، روزہ اور زکوۃ کی ادائیگی اللہ اور رسولؐ کا چرچا، فضول چیزوں میں مشغولیت کے بجائے دین میں مشغولیت، یہ وہ چیزیں ہیں جو مومنہ و مسلمہ کے گھر میں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔

۴- اہل اسلام کے گھر میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کا چرچا ہوتا ہے۔ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس معاملے میں اللہ کا حکم کیا ہے، اور رسول خدا کی سنت کیا ہے۔ صحابہ کی زندگی میں کیا نمونہ ملتا ہے۔ اس طرح خدائی احکام اور رسولؐ اور اصحاب رسول کے نمونہ سے ہدایت لیتے ہوئے گھر کو ایمان و اسلام کا گھر بنا دیا جاتا ہے۔

۵- مومن کا گھر پاکیزگی کا گھر ہوتا ہے۔ جس طرح غسل خانہ میں آدمی نہاتا ہے اور اس سے اس کا مادی جسم پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مومن کا گھر روح کی پاکیزگی کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں شرافت، انسانیت، سنجیدگی، اصول پسندی اور اعتراف حق کی خوشبو بسی ہوئی ہوتی ہے۔ جو لوگ اس ماحول میں رہتے ہیں، ان کی شخصیت مسلسل نکھرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکلتے ہیں تو وہ ایک ربانی انسان بن چکے ہوتے ہیں۔

لوگ اپنے گھر کو اس لحاظ سے بناتے ہیں کہ دیکھنے والے لوگ اس کو اچھا سمجھیں، مومن عورت اور مومن مرد کو اپنا گھر اس لحاظ سے بناتا ہے کہ وہ اللہ کی پسند کے مطابق ہو اور اللہ کے فرشتے وہاں آکر اس کو برکت دیں اور اس کو دنیا و آخرت کی سعادت سے بھر دیں۔

یہاں ازواج رسولؐ کو خطاب کرتے ہوئے مسلم عورتوں کو یہ عام ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کس طرح رہیں۔ اور اپنے گھروں کو کس نمونہ پر ڈھالیں۔ مسلم خاتون کو عام حالات میں اپنے گھر کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ دنیا دار عورتوں کی طرح زیب و زینت کی نمائش کا طریقہ انھیں اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی توجہ کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت گزار بن جائیں۔ وہ اپنے اثاثہ کو اللہ کے لیے خرچ کریں۔ زندگی کے معاملات میں اللہ اور رسولؐ کا جو حکم ملے اس کو فوراً اختیار کر لیں۔ وہ اللہ اور رسولؐ کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں اپنا وقت گزاریں۔ یہ طرز زندگی وہ ہے جو بندوں کو پاک باز بناتا ہے، اور پاک باز بندے ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page