Al-Risala · March 1996 · page 21

تربیت اولاد

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱

دین کے اعتبار سے بچے کی تربیت کا آغاز پیدائش کے فوراً بعد ہو جاتا ہے جب اس کے کان میں اذان کی آواز داخل کی جاتی ہے۔ یہ علامتی انداز میں اس بات کا اظہار ہے کہ بچہ کو دین دار بنانے کا عمل آغاز عمر ہی سے شروع کر دینا ہے۔ یہ کام ماں اور باپ دونوں کو کرنا ہے۔

والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ بچہ کے اندر توحید اور اسلامی عقائد خوب پختہ ہو جائیں۔ ذکر اور عبادت اس کی زندگی کے لازمی اجزاء بن کر اس کی شخصیت میں شامل ہو جائیں۔ وہ نماز، روزہ کا پابند ہو۔ صدقہ اور خیرات کا شوق اس کے اندر پیدا ہو جائے ۔ قرآن اور حدیث سے اس کو اس قدر شغف ہو جائے کہ وہ روزانہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مطالعہ کرنے لگے۔ اس کو دیکھ کر ہر آدمی یہ کہہ دے کہ یہ بچہ ایک دین دار بچہ ہے۔

اخلاق کی تربیت کی صورت یہ ہے کہ ہر موقع پر بچہ کو سکھایا جائے۔ اگر وہ غلطی کرے تو اس کو ٹوکا جائے۔ حتیٰ کہ اگر ضرورت ہو تو اس کی تنبیہہ کی جائے۔ بھائی بہنوں میں لڑائی ہو تو فوراً سمجھایا جائے۔ اگر کبھی بچہ جھوٹ بولے یا کسی کو گالی دے۔ یا کسی کی چیز چرا لے تو نہایت سختی کے ساتھ اس کا نوٹس لیا جائے۔ اور یہ سب بالکل بچپن سے کیا جائے تاکہ بچہ کی زندگی میں یہ چیزیں مستقل کردار کے طور پر شامل ہو جائیں۔ یہی طریقہ ڈسپلن کے بارہ میں اختیار کرنا ہے۔ بچہ کو اوقات کی پابندی سکھائی جائے۔ چیزوں کو صحیح جگہ رکھنے کی عادت ڈالی جائے۔ کھانا پینا باقاعدہ وقت کے ساتھ ہو۔ اگر وہ کوئی کاغذ یا تھیلی سڑک پر پھینک دے تو فوراً اسی سے اس کو اٹھوایا جائے۔ شور کرنے سے روکا جائے، ہر ایسی چیز سے بچنے کی تلقین کی جائے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہو۔

بچہ کی حقیقی تربیت کے لیے خود ماں باپ کو اپنا طرز زندگی اس کے مطابق بنانا ہوگا۔ اگر آپ اپنے بچہ سے کہیں کہ جھوٹ نہ بولو، اسی کے ساتھ آپ یہ کریں کہ جب کوئی شخص دروازہ پر دستک دے تو کہلوادیں کہ وہ اس وقت گھر پر نہیں ہیں تو ایسی حالت میں بچہ کو جھوٹ سے روکنا بے معنی ہوگا۔ اگر آپ سگریٹ پیتے ہوں تو بچہ کے سامنے اسموکنگ کے خلاف تقریر کرنا بے معنی ہے۔ اگر آپ وعدہ پورا نہ کرتے ہوں اور بچہ سے کہیں کہ بیٹے ، ہمیشہ وعدہ پورا کرو، تو بچہ کبھی ایسی نصیحت کو نہیں پکڑے گا۔ بچہ اپنے والدین کو ماڈل کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح بڑا بچہ چھوٹے بچوں کے لیے ماڈل ہوتا ہے۔ اگر والدین اور بڑا بچہ ٹھیک ہو تو بقیہ بچے اپنے آپ سدھرتے چلے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page