Al-Risala · March 1996 · page 22

صلح بہتر ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

صلح بہتر ہے

عورت اور مرد کے درمیان مختلف قسم کے جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا ختم ہونے والا ہی نہیں۔ اس طرح کے معاملات میں دونوں کیا کریں، اس کے بارہ میں قرآن میں مختلف قسم کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک جگہ نہایت اصولی رہنمائی دی گئی ہے جو اس قسم کے ہر معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے۔ وہ ہدایت یہ ہے :

و إن امرأة خافت من بعلها نشوزاً اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی او اعراضاً فلا جناح عليهما ان يصالحا یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ بينهما صلحاً والصلح خير وأحضرت الأنفس دونوں آپس میں کوئی صلح کرلیں، اور صلح بہتر ہے۔ اور الشح وإن تحسنوا وتتقوا فان الله كان بما حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم تعملون خبيراً - اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم (النساء ۱۳۸) کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔

گھریلو زندگی میں یا رشتہ داروں کے درمیان ہمیشہ جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی یہ نزاع صرف جذباتی نوعیت کی ہوتی ہے اور کبھی کسی واقعی معاملہ کے بارہ میں ہوتی ہے۔ کبھی عورت سمجھتی ہے کہ مرد کی زیادتی ہے، اور کبھی مرد کا خیال ہوتا ہے کہ زیادتی کرنے والی عورت ہے۔

ایسے مواقع پر ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ، قرآن کے الفاظ میں ، شح (حرص) کا طریقہ ہے، اور دوسرا صلح کا طریقہ۔ دونوں طریقوں کی نفسیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طریقہ کا رخ صرف اپنی طرف ہوتا ہے اور دوسرے طریقہ کا رخ دونوں کی طرف ۔

جس عورت یا مرد کے اوپر حرص کی سوچ غالب ہو وہ معاملہ کو صرف اپنی نسبت سے دیکھے گا۔ اپنے جذبات کی رعایت، اپنے مفاد کا تحفظ، اپنے وقار کی بحالی، اپنی ضد کو پورا کرنے پر اصرار، بس انھیں دائروں میں اس کا ذہن چلے گا۔ ایسے لوگ اپنے کو جانیں گے مگر وہ دوسرے کے نقطہ نظر سے بے خبر رہیں گے۔ اس قسم کا مزاج ہمیشہ صرف جھگڑے کو بڑھاتا ہے، وہ کبھی جھگڑے کو ختم کرنے والا ثابت نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page