جنت کا استحقاق
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹
وہ مسند عالی میر ابھجو ، شکایتیں کے باوجود خاندان کے افراد سے خوش گوار تعلقات کو باقی رکھے ۔ وہی عورت ، آخرت کی جنتی کی مستحق ہے جو اپنے حسن عمل سے اپنے شوہر کے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دے ۔ اس دنیا میں کوئی عورت یا مرد جب اپنے امتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ قریبی ماحول کے افراد سے وہ کسی نہ کسی نفسیاتیی پیچیدگی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ یہ نفسیات پیچیدگی بعض اوقات اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ اس سے اوپر اٹھنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔ وہ نفسیاتی پیچیدگی کے اس طوفان میں گھر کر رہ جاتا ہے ۔ عورت اور مرد دونوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس نزاکت کا شعوری ادراک کرے اور اس سے غیر متاثر رہ کر اپنا مفوضہ کردار ادا کر سکے ۔
ایک عورت کو ایک پورے ماحول میں رہنا پڑتا ہے جہاں اس کا سابقہ بار بار بہت سے مردوں اور عورتوں سے پیش آتا ہے ۔ اس عمل کے دوران کبھی کسی کی بات پر اس کو غصہ آجاتا ہے ۔ کبھی کسی کی بات اس کو اپنے حق میں توہین آمیز معلوم ہوتی ہے ۔ کبھی کسی کی ترقی کو دیکھ کر اس کے اندر جلن اور حسد کا جذبہ ابھر آتا ہے ۔ کبھی اس کو یہ شبہ ہو جاتا ہے کہ فلاں کی موجودگی میں میں ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی ۔ کبھی اس کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ فلاں مرد یا عورت خواہ مخواہ میرے راستہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔ کبھی اپنے بچوں کی بے جا محبت اور حمایت اس کو طرح طرح کی نادانیوں میں مبتلا کر دیتی ہے ۔
یہ تمام چیزیں عورت کی دنیا اور آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں ۔ عورت کو ان تمام چیزوں کو نظر انداز کرنا ہے ، اس کو ان تمام جذبات سے اوپر اٹھنا ہے ، ورنہ عورت اپنا وہ عظیم کردار ادا کرنے میں ناکام رہے گی ، جس کا سنہری موقع نظام فطرت نے اس کے لیے مہیا کیا ہے ۔ تاریخ میں بہت سی ایسی خواتین گزری ہیں جنھوں نے نہایت اعلیٰ کارنامے انجام دیے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی ۔ مگر یہ تمام وہی خواتین تھیں جن کے اندر بلند نظری کی صفت تھی ۔ جو اپنے آپ کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے اوپر اٹھانے میں کامیاب ہو گئی تھیں ۔ شکایت کی باتوں میں الجھنا آپ کی ترقی کے سفر کو روکتا ہے ۔ اور شکایت کو نظر انداز کر کے لوگوں سے اچھا معاملہ کرنا آپ کو اعلیٰ درجات تک پہنچا دیتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues