سب سے زیادہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰
سب سے زیادہ
صحیح بخاری میں ایک حدیث آئی ہے۔ مؤلف کتاب نے اپنے طریقہ کے مطابق اس کو کئی ابواب میں نقل کیا ہے۔ کتاب الکسوف میں جو روایت آتی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے : و رأيتُ النارَ فلم أر منظراً كاليوم رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو جہنم قط أفظع ۔ ورأيت أكثر أهلها النساء دکھائی گئی تو میں نے اس سے زیادہ قبیح منظر کبھی فقالوا بم يارسول اللہ - قال بكنفرم نہیں دیکھا۔ اور میں نے دیکھا کہ اس میں زیادہ تر قيل يكفرن بالله ۔ قال : يكفرن العشير عورتیں ہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ کیوں اے خدا ويكفرن الاحسان لو أحسنت الیٰ کے رسول ، آپ نے فرمایا کہ اپنے کفر کی وجہ سے۔ اھداھن الدهر كله ثم رأيت پوچھا گیا کہ کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں۔ آپ نے فرمایا منك شيئاً قالت : ما رأيت منك کہ وہ اپنے شوہر (قریبی فرد) کا انکار کرتی ہیں۔ وہ خيراً قط ۔
احسان کا انکار کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی سے
زمانہ بھر احسان کرو، پھر وہ تم سے کچھ دیکھے تو وہ کہہ دے گی کہ میں نے تم سے کبھی خیر نہیں دیکھا۔
عورت کی یہ کمزوری در اصل اس کی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے۔ عورت فطری طور پر زیادہ جذباتی (emotional) ہوتی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہے کہ اس کو جب کسی سے کوئی خلاف مزاج بات پہنچتی ہے تو وہ بہت جلد بے قابو ہو جاتی ہے ۔ اس وقت وہ پچھلی تمام اچھی باتوں کو بھلا بیٹھتی ہے اور ایسے سخت کلمات بولنے لگتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ کبھی خیر یا مہربانی کا معاملہ ہی نہیں کیا گیا۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو دو الگ الگ کام کے لیے پیدا کیا ہے۔ مرد دنیا کے کاروبار کو سنبھالنے کے لیے ہے۔ اور عورت بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے۔ اسی کے مطابق دونوں کی سرشت بنائی گئی ہے۔ چنانچہ مرد میں عزم کی خصوصی صلاحیت ہے۔ تاکہ وہ باہر کے طوفانی حالات کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ اور عورت کے اندر جذبہ یا عاطفہ زیادہ رکھا گیا ہے، تاکہ بچوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues