Al-Risala · March 1996 · page 31

احسان کا انکار کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی سے

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱

سنبھالنے کا نازک کام اس کے لیے آسان ہو جائے ۔

مرد اور عورت دونوں اس دنیا میں حالت امتحان ہیں ۔ البتہ دونوں کے لیے امتحان کے پرچے کسی قدر الگ الگ ہیں۔ اس اعتبار سے مرد اور عورت دونوں میں انحراف پیدا ہوتا ہے مگر دونوں کے انحراف کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

مرد کا انحراف انانیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور عورت کا انحراف، مذکورہ حدیث کے مطابق، بے اعترانی کی صورت میں، انانیت بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ہے اور بے اعترانی بھی ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال ۔

یہ حدیث عورت کو متنبہ کررہی ہے وہ کون سا مقام ہے جہاں عورت سب سے زیادہ نازک پوزیشن میں ہے اور کس معاملہ میں اس کو سب سے زیادہ چوکنار ہنا چاہیے ۔ یہ مقام وہ ہے جب کہ اس کا شوہر ( یا اس کے خاندان کا کوئی قریبی فرد) کوئی ایسی چیز کرے یا کوئی ایسی بات کہ کہہ دے جس سے عورت کے دل کو ٹھیس پہنچے ۔ ایسے موقع پر عورت کے اندر شدید جذبات ابھر آتے ہیں، حتی کہ وہ بھول جاتی ہے کہ اس سے پہلے ہزاروں بار اسی شوہر (یا اسی فرد خاندان) سے اس کو بھلائی اور مہر بانی ملی ہے۔

ایسے جذباتی موقع پر عورت جنت اور جہنم کے عین درمیان پہنچ جاتی ہے۔ اگر وہ جذبات کے وقتی جھٹکے کو برداشت کرلے اور وہ بات کہے جو انصاف کا تقاضا ہے تو اس کی یہ صابرانہ روش اس کے لیے جنت میں داخلہ کا ٹکٹ بن جائے گی ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ جذبات اس کے اوپر غالب آجائیں، وہ احسان فراموشی کے کلمات بولنے لگے یا قطع تعلق کر بیٹھے تو ایسی روش اس کو جہنم کی آگ میں داخل کرنے کا سبب بن جائے گی ۔

اس دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ یہاں ہر ایک کو سب سے زیادہ اس بات کے لیے چوکنار ہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے لیے امتحان کا لمحہ آئے اور وہ اس امتحانی لمحہ پر فیل ہو جائے ، وہ اپنی کامیابی کا ثبوت نہ دے سکے ۔

اس امتحان کا سب سے زیادہ نازک لمحہ وہ ہے جب کہ کسی عورت یا مرد پر جذبات کا غلبہ ہو جائے اور وہ جذبات کے زیر اثر صحیح روش پر قائم رہنے میں ناکام رہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page