احسان کا انکار کرتی ہیں۔ اگر تم ان میں سے کسی سے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳
ہو جاتا ہے، ان کا سبب بیشتر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ غلط فہمی پیدا ہونے کے بعد اگر سنجیدگی کے ساتھ اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ محض بے بنیاد تھی۔ اس طرح پہلے مرحلہ ہی میں اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن اکثر لوگ غلط فہمی کی تحقیق نہیں کرتے۔ اس طرح ایک بے بنیاد چیز بڑھ کر بگاڑ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مذکورہ واقعہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ایک چشم کشا واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مقدس خاتون جب غلط فہمی میں پڑ سکتی ہے تو عام عورت اور عام مرد کیوں غلط فہمی میں نہیں پڑیں گے۔ اس لیے جب بھی کسی کے خلاف کوئی برا خیال ذہن میں آئے تو کبھی اس کو دل میں بٹھانا نہیں چاہیے بلکہ اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے اس کو فوراً مان لینا چاہیے۔ اس طرح گھر کی زندگی بگاڑ اور انتشار سے بچی رہے گی۔
غلط فہمی کا صرف یہی نقصان نہیں ہے کہ وہ گھر کے نظام کو بگاڑنے والی ہے، اسی کے ساتھ وہ ایک سخت گناہ بھی ہے۔ کسی کے بارہ میں ایسا گمان کر لینا جو فی الواقع درست نہ ہو، وہ اللہ کو بیحد ناپسند ہے۔ حتی کہ یہ بھی اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں عورت یاجومرد کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں۔ غلط فہمی کو ماننے کا مزاج آدمی کی شخصیت کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ جو عورت یا مرد اس کمزوری کا شکار ہوں کہ وہ آسانی سے کسی کے بارہ میں غلط فہمی میں پڑ جائیں اور پھر اپنے ذہن کی صفائی نہ کریں وہ دھیرے دھیرے نہایت سطحی ہو جائیں گے۔ انسانوں کے لیے ان کے دل میں خیر خواہی نہیں ہوگی۔ وہ ایک غیر حقیقی دنیا میں جینے لگیں گے۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو جائے وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
غلط فہمی انسانی تعلقات کے لیے قاتل ہے۔ غلط فہمی سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہے۔ غلط فہمی دو گروہوں کو لڑا دیتی ہے۔ غلط فہمی عظیم بربادیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ تا ہم اس ہولناک برائی کا علاج نہایت آسان ہے۔ اور وہ تحقیق ہے۔ جب بھی آپ کو کسی کے بارہ میں غلط فہمی پیدا ہو تو آپ فوراً اس کو مان نہ لیں بلکہ براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق کریں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ آپ کی غلط فہمی رفع ہو جائے گی اور آپ کی حفاظت گناہ سے بھی ہو جائے گی اور غلط اقدام سے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues