Al-Risala · March 1996 · page 34

غیبت نہیں

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

غیبت نہیں

یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا اے ایمان والو، بہت سے گمانوں سے بچو۔ کیونکہ من الظن إن بعض الظن اثم بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور ولا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضا۔ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے ۔ کیا تم میں سے أیحب أحدکم ان يأكل لحم اخیه کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے میتاً فكرهتموه - واتقوا ان الله ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔ اس کو تم خود ناگوار تواب رحیم ۔ سمجھتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ (الحجرات (۱۲) معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

غیبت کا مطلب ہے ، کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہنا۔ مذکورہ آیت میں غیبت کو مرے ہوئے انسان کا گوشت کھانے کے برابر بتایا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فعل اللہ کے نزدیک کتنا زیادہ برا اور کتنا زیادہ نا پسندیدہ ہے۔

موطا الامام مالک کتاب الجامع) میں باب ما جاء فی الغیبۃ کے تحت ایک روایت آئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ غیبت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ تم کسی آدمی کا ذکر اس طرح کرو جس کو وہ ناپسند کرے اگر وہ سنے۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، اگر چہ بری بات واقعہہ کے مطابق ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہاری بات واقع کے خلاف ہو تو وہ بہتان ہے ( ان رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما الغيبة - فقال رسول الله صلى الله الله عليه وسلم : ان تذكر من المرء مايكره ان يسمع - قال يارسول الله وان كان حقا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اذا قلت باطلا فذلك البهتان (صفحه ۶۹۸) موجودہ زمانہ میں خواتین میں اور گھروں میں جو برائی سب سے زیادہ عام ہے وہ یہی ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں چند عورتیں اکٹھا ہوں گی وہ فوراً دوسروں کی شکایت کرنا شروع کر دیں گی، اس قسم کی شکایتوں ہی کا نام غیبت ہے ، کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس کی برائی بیان کرنا، جب کہ وہ خود اس کی صفائی کرنے کے لیے موجود نہ ہو، یہی غیبت ہے اور یہ غیبت خواتین میں اتنا

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page