شناخت کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲
شناخت کا مسئلہ
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان تشخص کے بحران (crisis of identity) کے مسئلہ سے دوچار ہیں ۔ وہ اپنے تشخص کا شعور کھو بیٹھے ہیں ۔ ایک عرب اسکالر کے الفاظ میں، موجودہ زمانہ کے مسلمان ابھی تک اس بنیادی سوال کا جواب دریافت نہ کر سکے کہ ہم کون ہیں (مَن نَحْنُ) میں سمجھتا ہوں کہ دورِ جدید کے مجتہد کے لیے یہ سب سے بڑا فکری چیلنج ہے۔ کیوں کہ اسی سوال کے صحیح جواب پر امت مسلمہ کی صحیح رخ بندی کا انحصار ہے۔
اگر آپ خالی الذہن ہو کر قرآن و حدیث کو پڑھیں تو آپ نہایت آسانی سے اس سوال کا جواب پالیں گے۔ قرآن سے غیر مشتبہ طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ دنیا کی قوموں کے سامنے خدا کے دین کے گواہ (شهدآء علی الناس) ہیں ۔ ٹھیک یہی بات حدیث میں بھی موجود ہے۔ صحیح البخاری کی روایات میں ہمیں المومنون شهداء الله فی الارض (٢٩٩/٥) اور (انتم شهداء الله فی الارض) (٢٠٠/٣) کے الفاظ ملتے ہیں۔
ان واضح نصوص کے مطابق، مسلمان کا تشخص یا اس کی حیثیت دنیا میں یہ ہے کہ خدا کے رسول کے ذریعہ اس کو جو دینِ رحمت ملا ہے ، اس کو ہر دور میں وہ تمام انسانوں تک پہنچاتا رہے، وہ گواہ یانذیرعریان کے درجہ میں اس کو پیش کرنے والا بن جائے ۔
مسلم شناخت کے بارہ میں اتنی واضح بات آج کی مسلم نسلوں کے اوپر مخفی کیوں ہوگئی۔ اس کا ہرا ہزار سال پیچھے تک جاتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانہ میں، اور اس کے بعد سلطنت عثمانی کے زمانہ تک مسلمانوں کی قومی حالت اس سے بالکل مختلف تھی جو آج ساری دنیا میں نظر آتی ہے۔ اس وقت مسلمان زمین کے اوپر واحد سپر پاور کی حیثیت حاصل کیے ہوئے تھے۔ شاعر کے الفاظ میں : ہمیں چھائے ہوئے تھے شرق سے تاغرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے اس ماحول میں مسلمانوں کے اندر اپنی جو شناخت ابھری وہ غلبہ و اقتدار کی شناخت تھی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خدا کی زمین پر خدا کا خلیفہ ہے (نحن خلفاء الله فی الارض) متر آن میں خلیفہ کا لفظ پہلے سے موجود تھا۔ اس میں اللہ کے لفظ کا اضافہ کر کے انھوں نے اپنی شناخت کا تعین حاصل کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues