Al-Risala · January 1996 · page 11

دار الحرب یا دار الإعداد

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱

وہ ساؤتھ افریقہ سے ہندوستان آئے اور اپنے "سیکولر اجتہاد" کے ذریعہ ہندوستان کے عوام نیز علماءءءء کو بتایا کہ ہمیں اب متشددانہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں " حکومت خود اختیاری" کے نظریاتی ہتھیار کو ہم زیادہ مؤثر طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ چنانچہ علما کی مقلدانہ رائے پر گاندھی کی مجتہدانہ رائے بر تر ثابت ہوئی ۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا وہ اب تمام لوگوں کے لیے ایک معلوم تاریخ بن چکا ہے ۔

اس پورے معاملے پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے تمام علما سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک جہاد کے نام پر ایک ایسے خونیں عمل میں مشغول رہے جس کا کوئی بھی نتیجہ تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہ تھا۔ اس خونیں جہاد کے دوران انھوں نے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو ناقابل بیان تباہی سے دوچار کیا۔ یہ صرف مہاتما گاندھی تھے جنہوں نے ان کو اس تباہ کن غار سے باہر نکالا ۔ اس مہلک تجربہ کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ ہے ہمارے علما کرام کا اپنے لیے اجتہاد کو شجر ممنوعہ سمجھ لینا ۔ تنقید و تحقیق اور بحث و اختلاف کو ممنوع قرار دے کر تقلید کے خول میں اپنے آپ کو بند کر لینا ۔

شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر صرف دو حالتوں کو جانتے تھے ۔ دار السلام ، دار الحرب ۔ ہندوستان جب ان کو دار الاسلام نظر آیا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ دار الحرب ہے ، اور اسی کے مطابق فتویٰ دے دیا۔ اگر وہ مجتہدانہ نگاہ رکھتے تو وہ وسیع تر دائرہ کے اعتبار سے معاملے کی تحقیق کرتے اور پھر وہ اعلان کرتے کہ قرآن کے الفاظ میں، ہندوستان اب دار الإعداد بن چکا ہے ( ہے(الانفال۶۰ یعنی ہماراروایتی دفاع اب بالکل غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ تم لوگ مغربی زبانوں کو پڑھو۔ سفر کر کے یورپ جاؤ اور معلوم کرو کہ ان قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ زمانہ کی تبدیلیوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھو اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرو ۔

حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد زندگی ہے اور تقلید صرف موت ۔ مگر تقلید کے خول سے نکلنا اور اجتہاد کے فوائد کو حاصل کرنا صرف آزادانہ اظہار رائے کے ماحول میں ممکن ہے۔ اور آزادانہ اظہار رائے کا ہم نے صدیوں سے اپنے درمیان خاتمہ کر رکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page