حضرت خدیجہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹
خدیجہ اب تک صرف آپ کی بیوی تھیں۔ اب وہ نبوت کے کام میں آپ کی ساتھی بن گئیں۔ انھوں نے ہر طرح آپ کی مدد کی۔ اپنی ساری دولت آپ کے حوالے کر دی۔ آپ کے ساتھ ہر قسم کی مصیبتیں برداشت کیں ۔ شعب ابی طالب میں آپ کے ساتھ تین سال گزارے جو ناقابل بیان حد تک تکلیف دہ تھے۔ مگر ان سب کے باوجود کبھی ایک بار بھی اف کا کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکلا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ مکہ میں ایک دن حضرت جبریل آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ خدیجہ آپ کے پاس آ رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں کچھ کھانا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آ جائیں تو ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام پہنچا دیجئے اور میری طرف سے بھی۔ اور ان کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت دیجئے جو موتی کا بنا ہوا ہوگا، اس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف (بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صَخَبَ فيه ولا نَصَبَ فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۶۶/۷ اس بشارت کا پس منظر یہ ہے کہ اس وقت مکہ میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کے ساتھ حضرت خدیجہ کو سخت پریشان کر رکھا تھا، آپ کے مکان کے پاس آ کر شور کرتے۔ آپ کے راستے میں کانٹا ڈالتے۔ آپ کو مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچاتے۔ اس کے نتیجہ میں حضرت خدیجہ کی پرسکون اور پرمسرت زندگی بالکل برباد ہو گئی تھی۔ رسول اللہ سے نکاح ان کے لیے سادہ طور پر نکاح نہیں تھا بلکہ اپنے آپ کو مصیبتوں کے طوفان میں ڈال دینے کے ہم معنی تھا۔
اس وقت آپ کو مذکورہ بشارت دی گئی۔ اس میں اللہ تعالی کی طرف سے براہ راست آپ کو یہ خوش خبری دی گئی کہ دنیا میں لوگ اگر تم کو پریشان کر رہے ہیں تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آخرت کی ابدی زندگی میں ہم نے تمہارے لیے ایسا پرراحت محل تیار کر رکھا ہے جو موتیوں اور جواہرات سے بنایا گیا ہو گا اور اس میں ہمیشہ کے لیے ایک ایسی پر سکون زندگی حاصل ہوگی جہاں نہ کسی کا شور داخل ہوگا اور نہ کوئی تکلیف دینے والا کبھی تم کو کوئی تکلیف پہنچا سکے گا۔
حضرت خدیجہ کو یہ انعام اس لیے دیا گیا کہ انھوں نے آنحضور کے ساتھ اس طرح وفادارانہ زندگی گزاری کہ کبھی کسی چیز کے لیے شکایت نہیں کی۔ آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو کسی ہچکچاہٹ کے بغیر فوراً آپ کی تصدیق کی۔ آپ کے مشن میں آخر وقت تک وہ آپ کی ساتھی بنی رہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues