حضرت عائشہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰
حضرت عائشہ
حضرت عائشہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ ہجرت سے آٹھ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں۔ ۶۶ سال کی عمر میں ۵۸ھ میں انتقال کیا۔ حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے بعد خولہ بنت حکیم بے آپ کی طرف سے حضرت ابو بکر کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس سے پہلے مطعم بن عدی اپنے بیٹے جبیر سے عائشہ کے نکاح کا پیغام دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے منظور بھی کر لیا ہے۔ اور خدا کی قسم ابو بکر نے کبھی کسی وعدہ کے خلاف نہیں کیا (واللہ ما اخلف ابو بکر وعداً قط) حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعد مطعم کے یہاں جا کر اس سے ملے۔ اس سے پوچھا کہ عائشہ سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت تمہارا کیا خیال ہے۔ مطعم نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس معاملہ میں تم کیا کہتی ہو۔ بیوی نے حضرت ابو بکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم سے رشتہ کرنے میں مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہیں میرا لڑکا صابی (بے دین) ہو جائے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر تمہارے مذہب (اسلام) میں داخل ہو جائے۔ ابو بکر دوبارہ مطعم بن عدی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ اے مطعم، تم کیا کہتے ہو۔ مطعم نے جواب دیا کہ میری بیوی نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔
اس طرح مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے رشتہ سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا کہ وعدہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہے۔ اب حضرت ابو بکر نے خولہ سے کہہ دیا کہ تمہارا پیغام مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مقررہ وقت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کے مکان پر گئے، وہاں عائشہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ مہر چار سو درہم مقرر ہوا۔
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ معاشرتی معاملات میں اگر کبھی کوئی بات ٹوٹ جائے تو اس سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نیا خیر نکلنے والا ہو۔ چنانچہ سردار مکہ کے لڑکے سے عائشہ کا رشتہ ٹوٹا، مگر اس کے بعد انہیں پیغمبر اعظم کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت چھوٹی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً ۵۰ سال تک زندہ رہیں۔ اس نامساوی نکاح کی مصلحت یہ تھی کہ عائشہؓ نے حد ذہین تھیں۔ ان کے اندر اخذ (grasp) کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ اس نکاح نے ان کی خداداد صلاحیت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues