حضرت عائشہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
کو سارے عالم کے لیے مفید بنا دیا۔
حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً دس سال رہیں۔ اس مدت میں انھوں نے رات دن آپ کو دیکھا اور آپ کی تمام باتیں سنیں۔ اس طرح علم دین اور حکمت اسلام کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے دماغ میں جمع ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انھوں نے اس علم نبوی کو امت تک پہنچایا۔ وہ تقریباً نصف صدی تک زندہ ٹیپ ریکارڈر بنی رہیں۔
حافظ ابن حجر ان کی بابت لکھتے ہیں کہ عائشہ کی پیدائش ہجرت سے تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً ۷ سال کی تھیں۔ انھوں نے آپ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں اور آپ کے بعد تقریباً ۵۰ سال تک زندہ رہیں۔ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ باتیں اخذ کیں۔ اور احکام و آداب میں سے بہت سی چیزیں ان سے نقل کیں۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ احکام شریعت کا چوتھائی حصہ ان سے نقل کیا گیا ہے۔ ان کی وفات امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں ۵۸ ھ میں ہوئی (فتح الباری ۷/ ۱۳۴) حضرت عائشہ سے اقوالِ رسول بہت زیادہ منقول نہیں ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو نہایت غور سے سنا۔ آپ کے ہر عمل کو نہایت توجہ سے دیکھا اور پھر اپنی خداداد ذہانت سے اس کی حکمتیں معلوم کیں ۔ ان کا کلام اسلامی حکمت اور معرفت کا خزانہ ہے مثال کے طور پر انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دومیں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ ان کے اس ایک قول میں معانی کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ حضرت خدیجہ رض نے اپنی ذہانت کو خالص اسلام کے لیے استعمال کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے زہد کو اپنا شعار بنایا۔ بعد کے زمانہ میں آپ کے پاس کثرت سے مال آتا تھا۔ مگر آپ سارا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر نے ان کے پاس ایک لاکھ ۸۰ ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے سارا درہم شام تک خیرات کر دیا۔ جبکہ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں روٹی اور زیتون کے تیل کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کچھ درہم بچا کر گوشت منگالیتیں تو اچھا ہوتا۔ فرمایا کہ تم نے پہلے یاد دلایا ہوتا تو منگالیتی۔
یہ زہد ہی حکمت کا دروازہ ہے۔ جو یہ چاہتا ہو کہ خدائی معرفت اور اسلامی حکمت کا چشمہ ان کے ذہن میں جاری ہو اس کو اس دنیا میں مادی چیزوں سے بے رغبت ہو کر رہنا ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues