Al-Risala · March 1996 · page 43

ایمان کی طاقت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳

ان کی خلافت حاصل کی۔ شیخ حمید الدین نے ، ۱۶ سال کی عمر پائی۔ آخر عمر میں وہ اُچ اور سکھر کے درمیانی علاقہ میں تبلیغ وارشاد کا کام کرتے رہے۔ اس علاقہ میں بہت سے لوگ ان کے ہاتھ پر ایمان لائے (تذکرہ صوفیا، پنجاب از اعجاز الحق قدوسی)

ایک عورت اگر صحیح معنوں میں ایمان اور اسلام پر ہو تو وہ خادمہ ہو کر بھی مالک سے زیادہ طاقت ور ہو جاتی ہے۔ اس کا ایک جملہ بادشاہ کو تڑپانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسی خواتین بہت ہیں جنہوں نے اپنے ایک مومنانہ کلمہ سے بڑے بڑے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔

بنو عباس کے آخری زمانہ میں تاتاریوں نے مسلم دنیا کو پامال کر ڈالا۔ ایک مؤرخ کے الفاظ میں: اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے جس کا مقابلہ دہشت انگیزی اور غارت گری میں تاتاری حملہ سے کیا جا سکے۔ جس طرح کسی پہاڑ سے بہت بڑا تودہ کسی بستی پر اگرے اسی طرح تاتاریوں کے وحشی لشکر اسلامی تہذیب و تمدن کے مرکزوں پر ٹوٹ پڑے اور اپنے پیچھے ویران صحرا اور بھیانک کھنڈر کے سوا کچھ اور نہیں چھوڑا۔

جیسا کہ معلوم ہے ، یہ المناک حادثہ دوبارہ اس طرح بدلا کہ وحشی تاتاری اسلام قبول کر کے اسلام کے حامی اور پاسباں بن گئے۔ یہ انقلابی واقعہ جن لوگوں کے ذریعہ انجام پایا ان میں بڑی تعداد عورتوں کی تھی۔ تاتاریوں نے مسلم دنیا کو تاراج کرنے کے بعد مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو لونڈی بنا لیا۔ یہ خواتین جو تاتاری گھروں میں زبردستی داخل کی گئی تھیں، انھوں نے خاموشی کے ساتھ تاتاریوں پر اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت کو اسلام میں داخل کر دیا۔ - 226-234 .The Preaching of Islam, pp تاتاریوں (مغلوں) کا پہلا فرماں روا جس نے اسلام قبول کیا وہ برکہ خان تھا۔ اس نے ۱۲۵۶ء سے لے کر ۱۲۶۶ء تک حکومت کی۔ برکہ خان کی ماں ایک مسلمان تھی۔ اس نے بچپن سے اس کی تربیت اسلامی انداز پر کی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر مسلمان ہو گیا۔ اسی طرح غازان خان کا بھائی الجائتو اپنی مسلمان بیوی کی ترغیب سے اسلام لے آیا۔ وغیرہ۔

اسلامی خواتین کی تاریخ اس قسم کے کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues

Printed page