ایک گواہی
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
ایک گواہی
امریکہ کے سفر میں مجھے ایک امریکی خاتون کا حال معلوم ہوا جنھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کر کے اوٹا (Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام جے عائشہ مرزا (Jeanine Aisha Mirza) ہے۔ ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیالی درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے۔ گھر کے باہر میرا شوہر باس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں : While most Americans are under the impression that Muslim wives are oppressed. Mirza said, she hasn't found that to be true. "It's just a different division. Outside the home, my husband's the boss. But in my house, I'm the boss."
اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرنے میں متردد رہتی ہیں۔ کیوں کہ انھیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے ۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ لڑکے وہ ہیں جو تعلیم کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں۔ کیوں کہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں، جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔
مذکورہ امریکی خاتون نے اپنے تجربہ کی روشنی میں اسلام کے اصول کی نہایت درست ترجمانی کی ہے۔ اسلام میں عورت کے درجہ کو مرد کے مقابلہ میں گرایا نہیں گیا ہے۔ بلکہ برابری کے اصول پر دونوں کے درمیان تقسیم کار کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اسلام نے زندگی کے معاملات کو دو بڑے حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک بیرونی حصہ، دوسرا اندرونی حصہ ۔ اسلام کے مطابق، بیرونی حصہ حیات کا انچارج مرد ہے اور اندرونی حصہ حیات کی انچارج عورت۔
یہ تقسیم کار دونوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس طرح زندگی کے ایک شعبہ میں مرد اپنی پوری طاقت لگانے کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت زندگی کے دوسرے شعبہ میں آزاد
‹ Previous page Next page › Contents of March 1996 All issues